22

ٹرمپ کےنام طالبان کا کھلا خط

افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے ‘کھلے خط’ میں 16 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ دہرا دیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق منگل (15 اگست کو) صحافیوں کو بھیجے گئے اپنے نوٹ میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا، ‘ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیش روؤں کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کے لیے نئی پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں’۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ٹرمپ کو افغانستان سے متعلق فوجی پالیسی نہیں اپنانی چاہیے بلکہ امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کردیا چاہیے، نہ کہ فوجی دستوں میں اضافہ کردیا جائے جس کی ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

1600 الفاظ پر مشتمل اپنے نوٹ میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ انخلاء سے ‘امریکی فوجی دستوں کو نقصان سے نجات’ ملے گی اور ‘وراثتی جنگ کا بھی خاتمہ’ ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے رواں برس جولائی میں کہا تھا کہ افغانستان کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی پورے خطے کے حوالے سے ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبریں، جن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 5 ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجے گا، درست ثابت ہونے والی ہیں۔ساتھ ہی جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی افغانستان میں امریکی فوج کے کام کی نوعیت کو تبدیل کرسکتی ہے۔تاہم کچھ امریکی عہدیداران نے مزید فوجی دستے افغانستان بھیجنے پر اعتراض کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2001 سے اب تک افغانستان میں 2300 امریکی ہلاک جبکہ 17000 زخمی ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں