117

امریکا کا ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، ایران کی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے تاہم ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ یو ایس ایس باکسر نامی امریکی جنگی بحری جہاز نے جمعرات کو اس وقت ’دفاعی کارروائی‘ کی جب یہ ڈرون بحری جہاز کے 1000 گز تک قریب آیا۔

ادھر ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ملکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیخراچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر کے مبالغہ آمیز دعوے کے برعکس خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود تمام ایرانی ڈرون نگرانی کے مشن مکمل کرنے کے بعد بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آئے ہیں اور یو ایس ایس باکسر سے مدبھیڑ کی کوئی رپورٹ نہیں دی گئی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے بےبنیاد اعلانات کا مقصد اشتعال انگیزی اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے

خیال رہے کہ ایران نے کچھ روز قبل فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ‘ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔’

ادھر تہران نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ اس نے ایک ’غیر ملکی ٹینکر‘ کو 12 افراد کے عملے سمیت پکڑا ہے جو خلیج میں ایندھن سمگل کر رہا تھا۔

امریکہ رواں برس مئی کے بعد سے اب تک متعدد بار ایران پر یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے بحری علاقوں میں بین الاقوامی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

حالیہ واقعات کے بعد خطے میں فوجی جنگ کے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ’میں سب کو آبنائے ہومز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتا چلوں جس میں امریکی یو ایس ایس باکسر جنگی جہاز نے شرکت کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایرانی ڈرون نے دفاعی کارروائی کی ہے جو کہ جہاز سے تقریباً ایک ہزار گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔ متعدد بار امریکہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی لیکن پھر جہاز اور اس کے عملے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈرون کو مار گرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں جاری اشتعال انگیزی کارروائیوں کی حالیہ مثال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات، لوگوں اور دلچسپیوں کا دفاع کرے۔

اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ ایران تیل بردار جہاز کوفوری طور پر چھوڑ دے۔ ایرانی میڈیا پر پاسدران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے جہاز کو سمگل ہونے سے روکا جس میں دس لاکھ لیٹر ایندھن موجود تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں رائے نامی ٹینکر وہاں چکر لگا رہا ہے۔ ایران نے کہا کہ ملک کے جنوبی علاقے میں اب بھی ٹینکر موجود ہے۔

ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے جب امریکہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے باہر نکل گیا۔ امریکہ کا الزام ہے کہ مئی اور جون میں دو مختلف حملوں میں خلیج اور عمان میں اس کے آئل ٹینکرز کو نشانہ وبنایا گیا۔ تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں