89

بھارت کا پاکستان طیارہ گرانے کا جھوٹ دنیا بھر میں رسوائی کا سبب بن گیا

رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران ہی بھارت کو پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا نہ صرف منہ توڑ جواب ملا بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ اس کے اپنے جھوٹے دعووں کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ بھارت کو پاکستان سے نہ صرف فضائی اور سمندری محاذ پر بلکہ سفارتی محاذ پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن افسوس کہ بھارت پاکستان سے متعلق اپنے دعووں کی حمایت میں ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کے تباہ شدہ طیارے مگ کا ملبہ دکھانے کے بعد بھارت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ پاکستان کا ایف سولہ طیارہ گرانے کے اپنے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش کرے۔ اسی دباؤ کے پیش نظر بھارتی فضائیہ کے افسر نے پریس کانفرنس کے دوران ریڈار کی کچھ تصاویر شئیر کیں اور دعویٰ کیا کہ یہ تصاویر پاک فضائیہ کے ایف سولہ طیارے کو مار گرانے سے کچھ دیر پہلے کی ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ناقابل تردید ثبوت ہیں ، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مزید تفصیلات عوام کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتے۔ لیکن عالمی میڈیا پر بھارت کے ان ناقابل تردید ثبوتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی جس سے بھارت کو دنیا کے سامنے ذلت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ بھارتی فضائیہ کے ائیر وائس مارشل آر جی کے کپور نے پریس کانفرنس کے دوران ریڈار کی تصاویر دکھا دیں اور کہا کہ یہ تصاویر 27 فروری کو پاک فضائیہ کے ساتھ ہونے والی ڈاگ فائٹ کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوام کے ساتھ زیادہ تفصیلات شئیر نہیں کر سکتی البتہ کچھ ریڈار کی تصاویر کو بطور ثبوت پیش کر دیا گیا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں بھارتی فضائیہ کے افسر نے وہی پُرانا راگ ہی الاپا کہ بھارتی فضائیہ کے مگ 21 طیارے نے پاک فضائیہ کا ایف سولہ طیارہ تباہ کیا۔ یہ پریس کانفرنس امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے بعد کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے پاس ایف سولہ طیاروں کی تعداد پوری ہے اور یہ کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے تباہ کیے گئے مگ 21 طیارے کا ملبہ بطور ثبوت پیش کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے 27 فروری کو بھارتی فضائیہ کا مگ 21 اور سخوئی 30 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بھارتی طیارے کا ملبہ بھی پوری دنیا کو دکھا دیا۔ پاکستان نے اپنے دعوے کے حق میں ٹھوس ثبوت بھی پیش کیا تھا لیکن بھارت اپنے دعووں کے حق میں ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا جس پر ایک مرتبہ پھر بھارت کی دنیا بھر میں رسوائی ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں