68

سانحہ نیوزی لینڈ، عدالت نے حملہ آور سے متعلق پہلا حکم دیدیا

رواں سال وسط مارچ میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں حملے سے متعلق دوسری سماعت ہوئی اور اس دوران ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں حاضری لگوائی گئی اور عدالت نےملزم کے ریمانڈ میں 14 جون تک توسیع کردی اور سماعت ملتوی کرتے ہوئے حملہ آور کی دماغی حالت کے 2 معائنوں کا حکم دے دیا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کو کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ کے جج کیمروں مینڈر نےمختصر سماعت کی اور آسٹریلوی حملہ آور کے دماغی معائنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ وہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرسکتا ہے یا نہیں۔ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ آک لینڈ کی انتہائی حفاظتی جیل کے ایک چھوٹے کمرے سے بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیاگیا جسے ہتھکڑی لگی دیکھی جاسکتی تھی ۔

دوران سماعت جج کیمرون مینڈر کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ پر 50 افراد کے قتل اور 39 افراد کے اقدام قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ، دماغی صحت کا معائنہ ایسے کیس میں ایک عام سی بات ہے اور دیکھا جائے گا کہ وہ ٹرائل کا سامنا کرنے کے قابل ہے یا نہیں کیونکہ وہ آک لینڈ کی ایک جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہے جبکہ وکلا کا کہنا تھا کہ اسے مکمل ہونے میں 2 سے 3 ماہ کا وقت لگے گا۔رپورٹ کے مطابق سماعت کے موقع پر حملے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے کمرہ عدالت کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، جن میں سےدو لوگ ہسپتال کے لباس میں وہیل چیئر پر موجود تھے۔ سماعت سے قبل کورٹ رجسٹرار نے لوگوں کو عربی اور انگریزی میں خوش آمدید کہا، اس دوران وہاں موجود بعض افراد جذباتی ہوکر رو پڑے۔

بتایاگیا ہے کہ پہلی سماعت کے برعکس حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے سماعت کے دوران کسی جذبات کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا کہ وہ پہلی سماعت میں میڈیا کے سامنے ہاتھوں سے اشارے کرتا رہا ، وہ کمرے کی طرف دیکھتا رہا یا سر ہلاتا رہا جیسے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ اچھے سے سن رہا ہے۔دوران سماعت فاضل جج نے بتایا کہ برینٹن ٹیرنٹ جج اور وکلا کو دیکھ سکتا ہے لیکن پبلک گیلری میں بیٹھے افراد کو نہیں دیکھ سکتا۔

ادھر الجزیرہ کاکہناہے کہ اگر جرم ثابت ہوجاتاہے تو ملزم کو پیرول کے بغیر ہی عمر قید ہوگی اور ایسا اس سے قبل نیوزی لینڈ میں کبھی نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے وکیل کو برطرف کردیا تھا کہ وہ بذات خود اپنی نمائندگی کرنا چاہتا ہے،لیکن آج اس نے اپنی نمائندگی کے لیے آک لینڈ کے 2 وکلا شین ٹیٹ اور جوناتھن ہڈسن کو منتخب کیا ہے۔برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی جس میں ان کی ذہنی حالت کی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسے اپیل دائر کرنےکی ضرورت ہے یا نہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ابتدائی طورپر ملزم کیخلاف ایک فرد کی شہادت کی فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن گزشتہ روز مزید 49 لوگوں کی شہادت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 50 افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں