71

’کیا ہم نے سعودیوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘

جب 70 کے عشرے میں ماؤزے تنگ کے تطہیری ثقافتی انقلاب کی سخت زمین سے دینگ ژاؤ بینگ کا یہ نعرہ پھوٹا کہ امیر ہونا کوئی بری بات نہیں اور پھر چینی کیمونزم کے بازو میں تھوڑی سی سرمایہ داری کا انجیکشن لگاتے ہوئے یہ دلاسہ دیا گیا کہ بلی سیاہ ہے کہ سفید، کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ چوہے پکڑ رہی ہے۔

اس پر دائیں بازو کے دوستوں نے بائیں بازو کے چین نوازوں سے یہ بدتمیزی شروع کر دی کہ کامریڈ کیا اب بھی تم ترمیم پسندی مردہ باد، ماؤ ازم زندہ باد کا نعرہ لگاتے رہو گے؟

جب گوربچوف نے سوویت یونین میں پریسترائیکا (تعمیرِ نو) اور گلاسنوسٹ (کھلے پن) کا علم اٹھایا اور 70 برس بعد نجی ملکیت کا سور حلال قرار دے دیا تو دائیں بازو کے دوستوں نے ماسکو نوازوں پر رکیکیئت شروع کردی۔

کامریڈ کیا اب بھی ماسکو میں سردی پڑی تو تم کراچی میں اوورکوٹ پہن لو گے؟

میرے کئی بنیاد پرست کیمونسٹ، سوشلسٹ دوست تو چین کے بدعت پن اور سوویت یونین ٹوٹنے سے اتنے دل بر داشتہ ہوئے کہ کچھ این جی او سیکٹر میں چلے گئے، کچھ تبلیغی ہوگئے، بہت سے کونہ پکڑ کے بیٹھ گئے اور مارکس کا یہ تجزیہ بھی ذہن سے کھرچ دیا کہ ہر نظام کا تضاد اسی نظام کے اندر سے ابھرتا ہے۔

دائیں بازو کے دوستوں نے چین میں آنے والی گہری تبدیلیوں اور سوویت یونین کے خاتمے کو پہلے تو مکافاتِ عمل سمجھا اور پھر یہ یقین کر لیا کہ بیجنگ اور ماسکو کے بعد اب واشنگٹن کی باری ہے۔ پہلے کیمونزم مردہ باد، اب لبرل ازم سیکولر ازم مردہ باد۔ خالص اسلام زندہ باد۔

اور خالص اسلام کی مثال میں سعودی ریاست کو پیش کیا گیا۔ قوانین اگر وہی ہو جائیں جیسے سعودی عرب میں ہیں تو پاکستان بھی انہی فیوض و برکات سے مالامال ہو جائے گا۔ چنانچہ ضیا الحق نے سعودی علما کے مشورے سے وہ وہ قانون سازی کی جس کے ثمرات آج ہر طرف لہلہا رہے ہیں۔

خوبصورت مساجد، کثیر منزلہ مدارس، ان مدارس سے نکلنے والے سعودی نظریاتی متاثرین کے لیے فنڈنگ، سکالر شپس، ہم خیال علماِ کرام پر نوازشات و انعامات کی بارش، حج و عمرے کے کوٹے، ہر فوجی و سویلین حکمران کی ریاض کی چوکھٹ پر حاضری، ہر درخواست حکم کا درجہ، یہ لیجیے فوجی دستے، یہ لیجیے مزدور، یہ لیجیے ناپسندیدہ لوگ، آپ ہمارے نظریاتی و روحانی مرشد، ہم آپ کے جانثار مرید، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ڈھیلا نکال کے ہاتھ پر دھر دیں گے۔

سعودی اسلام زندہ باد، لِبرل سیکولر فاشسٹو پاکستان چھوڑ دو اور مغربی آقاؤں کے تلوے چاٹو۔

پھر ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ سعودی عرب میں محمد بن سلمان نامی دینگ ژاؤ بینگ اور میخائیل گوربچوف کا جنم ہوا اور گلاسنوسٹ و پریسترائیکا کا بھوت سعودی ویژن 2030 کے نام سے سامنے آگیا۔

کہاں ملکہِ برطانیہ کو بھی بادشاہ سے ملاقات کے لیے حجاب اور گاؤن پہننا پڑتا تھا اور کہاں مسز ڈونلڈ ٹرمپ اور صاحبزادی ایوانکا خادمِ حرمین کے آگے سے بال جھٹکتے ہوئے گزر گئیں۔

پچھلے ایک برس میں کوئی مہینہ نہیں جاتا کہ سعودی عرب سے سر چکرا دینے والی خبر نہ آتی ہو۔

کہاں عورتوں کی ڈرائیونگ سے کنوار پنے کو خطرہ بتایا جاتا تھا اور کہاں اب عورتیں کار چھوڑ موٹر سائیکل اور ٹرک چلا سکتی ہیں، سٹیڈیم میں میچ دیکھ سکتی ہیں، فتویٰ ہو گیا ہے کہ عبایہ پہننا ضروری نہیں بس معقول حجاب کافی ہے، خواتین بیشتر شعبوں میں ملازمت کر سکتی ہیں۔

چار سعودی لڑکیوں کے پاپ گروپ خمسہ الضیا نے یو ٹیوب پر تباہی مچا دی۔ ریاض میں پہلے اوپرا ہاؤس کی تعمیر شروع اور لاس ویگس جیسے تفریحی شہر کی تعمیر کا منصوبہ، مارچ میں پہلا عرب فیشن وویک ریاض میں منعقد ہوگا۔

اگلے 12 برس میں تین سو سینیما ہاؤس تعمیر ہوں گے۔ سعودی فلمسازوں کو اب ملک کے اندر فلمیں بنانے کی اجازت،انٹرٹینمنٹ پر اگلے 10 برس میں 64 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے بقول ’ہماری 70 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے لیے سعودی عرب پھر سے ایسا اعتدال پسند ملک بن جائے جس میں تمام مذاہب، ثقافتوں اور لوگوں کے لیے راہیں کھلی ہوں۔‘

میں نے روس اور چین کو مکافاتِ عمل سے گزارنے والے چار جئید دوستوں کو فون کیا۔ تین نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ چوتھے نے کہا یہ سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے مجھ سے کیا پوچھتے ہو، میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے ان کا۔ وما علینا الالبلاغ ۔۔۔

تحریر:
وسعت اللہ خان

اپنا تبصرہ بھیجیں