84

سعودی عرب کی ’توہین‘پر پانچ سال کی سزا

کویت کی ایک عدالت نے ایک مقامی بلاگر کو سعودی عرب سے متعلق تنقیدی ٹویٹس کی وجہ سے پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق یہ بلاگر سعودی عرب کی ’توہین‘ اور ’سعودی کویتی تعلقات کو خطرے میں ڈال دینے‘ کا سبب بنا تھا۔

خلیجی ریاست کویت کے دارالحکومت کویت سٹی سے اتوار اکیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق سوشل میڈیا پر سرگرم اس بلاگر کو یہ سزا آج اتوار کے روز ملکی فوجداری عدالت نے سنائی۔

کویتی اخبار ’الانباء‘ نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں بتایا کہ ملزم کا نام عبداللہ الصالح ہے اور اس نے ٹویٹر پر اپنے تنقیدی بیانات کے ساتھ نہ صرف سعودی عرب کی ‘بے عزتی‘ کی تھی بلکہ وہ کویت کے خلیج کے علاقے کی اس سب سے طاقت ور ریاست کے ساتھ تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال دینے کا باعث بنا تھا۔

عبداللہ الصالح کو یہ سزا کئی مہینوں سے جاری اس علاقائی تنازعے سے متعلق اس کے تبصروں کی وجہ سے سنائی گئی ہے، جس میں ایک طرف خلیجی ریاست قطر ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی اور غیر خلیجی عرب ممالک کا وہ گروپ جس نے پچھلے سال سے قطر کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ اس کے خلاف پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ان کے 32 سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال شاہی خاندان کی جانب سے رائج برسوں پرانے قوانین، سماجی روایات اور کاروبار کرنے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی پیدا کی۔ یہ دونوں شخصیات اب اس ملک کی نوجوان نسل پر انحصار کر رہی ہیں جو اب تبدیلی کی خواہش کر رہے ہیں اور مالی بدعنوانیوں سے بھی تنگ ہیں۔

الصالح نے، جو اپنے خلاف سزا کے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں، ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں لکھا تھا کہ سعودی عرب قطر کا ’ناجائز محاصرہ‘ کیے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اس کویتی شہری نے اپنی دوسری ٹویٹس میں یہ بھی لکھا تھا کہ سعودی عرب کے بہت طاقت ور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان انتہائی پرتعیش طرز زندگی کے حامل ایک ایسے شخص ہیں جو ’اختلافی آوازوں کو چپ کرا‘ دیتے ہیں۔

عبداللہ الصالح نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے اپنی یہ ٹویٹس اس وقت کی تھیں، جب گزشتہ برس جون میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات اور تمام زمینی، فضائی اور سمندری رابطے منقطع کرتے ہوئے دوحہ حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے۔

قطر اپنے خلاف خطے کی ریاستوں کے ان الزامات کی سرے سے تردید کرتا ہے اور کویت شروع سے ہی فریقین کے مابین مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے، جس میں اسے اب تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔

اس کویتی بلاگر کو اتوار اکیس جنوری کو سنائی جانے والی سزا سے قبل گزشتہ ماہ دسمبر میں بھی اسے قطری تنازعے ہی کے سلسلے میں ایک آن لائن ویڈیو میں سعودی عرب پر تنقید کرنے کی وجہ سے پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

دسمبر میں اس عدالتی فیصلے کے بعد الصالح کویت سے فرار ہو کر برطانیہ چلا گیا تھا، جہاں اس نے اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ سعودی عرب سے متعلق تنقیدی ٹویٹس کے باعث اسے دوبارہ پانچ سال کی سزائے قید اس کی غیر حاضری میں سنائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں