85

امن کیلئے امریکا کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا‘ آیت اللہ خامنہ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے امریکا کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا۔

گزشتہ روز روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ تہران اور ماسکو میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم امریکا کے خلاف اقدام کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کے مکمل حل کے لیے ایران اور روس کے درمیان بہتر تعلقات کا ہونا ضروری ہے اور بہتر تعلقات سے ہی خطے میں حالات سازگار ہوں گے۔

ملاقات میں ایران کے 2015 میں ایران نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر تہران ایٹمی پروگرام پر لگنے والی پابندی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

واضح رہے کہ تہران نے روس اور امریکا سمیت 6 ممالک کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن گزشتہ ماہ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق سے انکار کردیا تھا۔

اس حوالے سے ماسکو کی جانب سے بھی امریکی صدر کے جارحانہ اور دھمکی آمیز بیان پر تنقید بھی کی گئی تھی۔

گذشتہ دنوں روس، ایران اور ترکی کے درمیان قازقستان میں ہونے والی گفتگو کے بعد ماسکو کا کہنا تھا کہ پیوٹن کے دورے کے دوران شام ان کی توجہ کا مرکز رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان امن کوششوں کو مضبوط کرنے میں کردار بھی ادا کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں