73

افغانستان میں‌ مساجد پر دوخودکش حملے، 63 شہید، درجنوں‌ زخمی

افغانستان کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کے باعث کم از کم 63 افراد شہید اور 45 زخمی ہوگئے، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان گزشتہ کئی روز سے دھماکوں کی گونج میں ہے، پہلا حملہ گزشتہ روز قندھار ملٹری بیس پر واقع امام ضامن مسجد پر ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد شہید اور 45 زخمی ہوگئےتھے۔

افغان وزیر داخلہ میجر جنرل علی مست مومند نے بتایا کہ جمعے کی نماز کے وقت ہونے والے حملے میں حملہ آور مسجد میں داخل ہوا پہلے اسے نے فائرنگ کی پھر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

حملے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے جائے حادثہ کو سیل کرکے شواہد اکھٹے کئے۔

زرائع کے مطابق پہلا حملہ اہل تشیع افراد کی مسجد پر ہوا جس میں جاں بحق تمام افراد کا تعلق ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

جبکہ دوسرا حملہ کچھ ہی دیر بعد غور شہر کی ایک مسجد پر ہوا جس میں 33 افراد شہید ہوئے تاہم اس بار اہل سنت کی مسجد کونشانہ بنایا گیا

صوبائی پولیس کے ترجمان محمد اقبال نظامی کے مطابق حملہ نماز جمعہ کے وقت ہوا جس کے باعث 33 افراد جاں بحق ہوگئے حملے میں ایک سابق مقامی کمانڈر عبدالاحد کو نشانہ بنایا گیا جن کا تعلق جمیعت پارٹی لیڈر سے ہے اور وہ حکومت کی حمایت میں تھے۔

زرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں عبدالاحد اور اس کے سات سیکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں