229

جھوٹی ٹویٹ پر امریکی صدر کو شرمندگی کا سامنا

واشنگٹن(26ستمبر 2017)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دنوں ایک جھوٹی خبر کا شکار ہوئے جب انھوں نے ایران کے میزائل تجربے کی خبر پر ٹویٹ کی جس پر امریکی صدر کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی صدر نے ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک خبر کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ مشرق وسطیٰ میں امریکی حلیف اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔لیکن امریکی حکام نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ ویڈیو دراصل سات ماہ پرانی ہے اور ایران نے حال میں کسی میزائل کا تجربہ نہیں کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ویڈیو کے ٹی وی پر چلائے جانے کے بعد ٹویٹ کیاکہ ایران نے ابھی اسرائیل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ یہ اس معاہدے کی پاسداری نہیں جو ہم نے ان سے کی ہے۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی تضحیک کی اور کہا کہ ان کے پیش روؤں نے ایران کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا ہے وہ امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔انھوں نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم ایک قاتل حکومت کو خطرناک میزائل بنانے اور اس قسم کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں جاری نہیں رکھنے دیں گے۔ اور ہم ایسے کسی عہدکے پابند نہیں جس سے کہ بعد میں جوہری پروگرام کی تکمیل ہوتی ہو۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ کہ ان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور اسرائیل جیسے کسی ملک کے لیے وہ خطرہ نہیں ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی تقریر کے ایک روز بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی کسی کو نہیں دھمکایا ہے اور ہم کسی کی دھمکی کو برداشت بھی نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد امریکہ نے اْس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے میزائل کا تجربہ سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اْس کے میزائل پروگرام کی وجہ سے وہ جوہری معاہدہ ختم کر دیں گے کیونکہ میزائل پروگرام کے ذریعے ایران جوہری ہتھیار لے جانے کی معلومات حاصل کر رہا ہے تاکہ جوہری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ اس پر عمل کر سکے۔ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین سنہ 2015 میں طے پانا والے جوہری معاہدے کے تحت ایران 2025 تک اپنا جوہری پروگرام منجمد کرنے پر متفق ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں