218

روہنگیا مسلمانوں پر تشدد من گھڑت قرار

ینگون (06 ستمبر 2017) برما میں ہر گزرتے دن کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، برما سے بنگلہ دیش آنے والی روہنگیا مسلمانوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے جس میں 5 افراد ہلاک جبکہ متعدد لاپتہ ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب نوبل انعام یافتہ برمی سیاستدان آنگ سان سوچی نے بھی چپ کا زروہ توڑ دیا اور اقوام متحدہ کےسیکیرٹری جنرل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو پورا خطہ غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔

بنگلہ دیش کی جو صورتحال ہے وہ بھی برما سے کم نہیں، حسینہ واجد نے اپنی سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔ روہنگیا مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیشی پولیس کے مطابق، برما سے سمندر کے راستے بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی کشتی ڈوب گئی جس میں سوار درجنوں افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب نوبل انعام یافتہ برمی سیاستدان آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں زبان کھول ہی دی۔ ستم ظرفی تو یہ ہے کہ میڈیا پر آنے والے بیان میں ماضی کی طرح سوچی نے روہنگیا مسلمانوں پرہونے والے انسانیت سوز مظالم کی مذمت نہیں کی۔

دوسرا یہ کہ ماتھے پر نوبل ایوارڈ سجانے والی آنگ سان سوچی کو خود سے یہ خیال نہیں آیا کہ برمی مسلمانوں کے بارے میں کچھ کہا جائے بلکہ گزشتہ روز ترک صدر نے فون کیا تھا جس میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے۔

سوچی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی تکلیف ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا اوران کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے علاقے میں ہر ایک کی حفاظت کررہی ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا پر چلنے والی خبروں اور رپورٹس کو من گھڑت قراردیا اور کہا کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں۔

اُدھر اقوام متحدہ نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ روہنگیا بحران سے پورا خطہ غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔ میانمارحکومت روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد بند کرے۔

روھنگیا مسلمانوں پر ظلم کیخلاف دنیا پھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے لیکن برما اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگ رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں