233

شام میں‌دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ

شام کی سرکاری فوج مشرقی شہر دیر الزور کے قریب پہنچ گئی ہے جسے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے تین سال سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق فوجی صحرا میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اب شہر کے مغربی حصے سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئے ہیں۔ دولتِ اسلامیہ کا شہر کے نصف حصے اور ملحقہ صوبے کے بیشتر حصے پر کنٹرول ہے۔

یہ شام میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے، جب کہ اس کے عملی دارالحکومت رقہ کا امریکی حمایت یافتہ شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں کے اتحاد نے محاصرہ کر رکھا ہے۔دیرالروز کے سرکاری کنٹرول والے حصے میں 93 ہزار شہری رہتے ہیں۔

یہ لوگ شامی فضائیہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے فضا سے پھینکے جانے والے سامان پر گزربسر کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شہر میں حالات بےحد مشکل ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے صوبائی گورنر محمد ابراہیم سامرہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ شہریوں کو جب معلوم ہوا کہ سرکاری فوجی شہر کے قریب پہنچ گئے ہیں تو انھوں نے اتوار کی شام جشن منایا۔

لبنان کی حزب اللہ تنظیم کے جنگجوؤں نے دیر الزور کی جانب پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جو اس کے بقول شہریوں کے جشن پر مبنی ہے۔

اس نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے حامی جنگجوؤں نے شہر کے مغربی حصے کی پہاڑیوں پر قبضہ کر کے دولتِ اسلامیہ کی کمک کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔

شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ فوجی اور جنگجو شہر کے کنارے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ شہر کے اندر موجود جنگجوؤں سے لڑ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں