48

قائد اعظم کا آخری دن۔۔۔

قائد اعظم کی زندگی کا آخری دن !

دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم سہ پہر سوا چار بجے ماری پور ائر پورٹ پر اترے یہ وہی ائر پورٹ تھا جہاں ایک سال قبل وہ نہائت پر اعتماد انداز میں اور اس امید کے ساتھ اترے تھے کہ وہ پاکستان کو عظیم قوم بنائیں گے اْس وقت ائر پورٹ ہزاروں افراد جن میں کابینہ کے وزراِ اور سفارتی مشنوں کے ارکان بھی شامل تھے ان کے لیے استقبال کے لیے موجود تھے لیکن اس دن جیسا کہ پہلے ہدائت کردی گئی تھی ہوائی اڈے پر کوئی نہ تھا۔جونہی ہم طیارے سے باہر آئےگورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری کرنل جیفری ناولز نے ہمارا استقبال کیا قائد کو ایک سٹریچر پر لٹا کر ایک فوجی ایمبولینس میں لے جایا گیا یہ انہیں گورنر جنرلز ہاوس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی میں اور سسٹر ڈنہم ان کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھے تھے ۔

ایمبولینس بہت سست روی سے چل رہی تھی ہماری پارٹی کے دوسرے لوگ گاڑیوں سے روانہ ہو چکے تھے صرف ڈاکٹر مستری اور ملٹری سیکرٹری گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں ہماری ایمبولینس کے پیچھے تھے۔ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولینس اس طرح ہچکیاںلیں جیسے اسے سانس لینے میں مشکل در پیش ہو رہی ہو اور پھر وہ اچانک رک گئی کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولینس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولینس کا پٹرول ختم ہو گیا اگرچہ ڈرائیور نے انجن سے الجھناشروع کردیا تھا لیکن انجن نے نہ سٹارت ہونا تھا نہ ہوئی میں پھر ایمبولینس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دی اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا میں نے جھک کر آہستگی سے کہا “ایمبولینس کا انجن خراب ہو گیا ہے “۔انہوں نے آنکھیں بند کر لیں عمومإً کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہے اور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے لیکن اْس دن ہوا بالکل بند تھی اور گرمی نا قابل برداشت ۔قائد کی بے آرامی میں اضافہ کا سبب یہ تھا کہ بے شمار مکھیاں ان کےچہرے پر بھنبنا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے انہیں اٹھا بھی سکتے سسٹر ڈنہم اور میں باری باری انہیں پنکھا جھل رہے تھےہم منتظر رہے ککہ شائد کوئی اور ایمبولینس آجائے ہر لمحہ کرب و اذیت کا ایک متناہی لمحہ تھا قائد کو ہم کیڈلک میں بھی منتقل نھیں کرسکتے تھے کہ وہ اتنی بڑی نہیں تھی کہ اس میں اسٹریچر سماسکے چناچہ امید و بیم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے ۔۔۔

قریب ہی مہاجرین کی سینکڑوںجھگیاں موجود تھیں مہاجرین اپنے روزمرہ کے کاموں مصروف تھے انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کا وہ قائد جس نے ان کو ایک وطن دیا ہے ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی ایمبولینس میں بے یار و مددگار پڑا ہے جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے کاریں ہارن بجاتی قریب سے گزر رہی تھیں بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کی طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایک ایسی ایمبولینس میں بے حس و حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی ۔ اور اس بے حس و حرکت ایمبولینس میں ایل نہایت قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہورہی تھی ہم وہاں کوئی ایک گھنٹے منتظر رہے میری زندگی میں کوئی اور گھنٹہ اتنا طویل اور دردناک نہیں آیا تب خدا خدا کرکے ایک اور ایمبولینس آئی انہیں سٹریچر کے ذریعے نئی ایمبولینس مین منتقل کیا گیا اور یوں آخر کار ہم پھر گورنر جنرلز ہاوس کی طرف روانہ ہوئےگورنر جنرلز ہاوس میں انہیں آہستگی سے بستر پر لٹا دیا گیا تو میں نے گھڑی دیکھی ماری پور ائر پورٹ پر اترے ہوئے ہمیں دو گھنٹے ہو گئے تھے کتنی عجیب بات تھی دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماری پور سے گورنر جنرلز ہاوس پہنچنے میں لگے۔

ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور دبے الفاظ میں کہا” فضائی سفر کے لیے ہی ان کی حالت کیا کم خراب تھی کہ ایمبولینس کا یہ تکلیف دہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جلد ہی وہ گہری نیند سو گئے اور ڈاکٹر یہ کہتے ہوئے گورنر جنرلز ہاوس سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ وہ جلد ہی واپس آجا ئیں گے اب میں اپنے بھائی کے ساتھ بالکل تنہا تھی میرا بھائی بہت گہری نیند سو رہا تھا میرے ذہن میں گویا ایک وجدانی تصور ابھرا اور میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ پر سکون نیند بجھنے والی شمع کی لو آخری تیز چمک ہے میں خاموش تھی اور خاموشی میں اپنے بھائی سے مخاطب تھی: “اوہ جن ؛ کاش ڈاکٹر میرا تمام خون نچوڑ کر تمھیں دے دیں تا کہ تم زندہ رہو ۔کاش خدا میری زندگی کے تمام برس لے کر تمہیں دے دے تا کہ تم ہماری قوم کی رہنمائی کرتے رہوتو میں خدا کی کتنی شکر گزارہوں گی ” تقریباً دو گھنٹے کی پر سکون اور بے دخل نیند کے بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں،مجھے دیکھا سر اور آنکھوں کے اشارے سے مجھے قریب آنے کو کہا آخری مرتبہ کوشش کرکے زیر لب مجھ سے مخاطب ہوئے ” فاطی خدا حافظ ۔ ۔ ۔ لا اِلٰہ ۔ ۔ ۔ ۔ الا اللہ محمد ۔ ۔ ۔ الرسول ۔ ۔ ۔ اللہ ” پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئی ۔

(محترم فاطمہ جناح کی کتاب ” میر ابھائی” سے اقتباس)

اپنا تبصرہ بھیجیں