92

آزادکشمیر کے ستر سال ۔۔۔۔۔منزل بہ منزل

آزادجموں وکشمیر 13297 مربع کلومیٹر رقبے ، تقریباً42 لاکھ آبادی ، تین ڈویژنز، دس اضلاع، 32 سب ڈویژنز ، 189 یونین کونسلز، 5 میونسپل کارپوریشنز، 18 ٹاؤن کمیٹیز اور 1771 دیہات پر مشتمل ہے جسے 1947 میں یہاں کے غیور و بہادر عوام نے بھارتی اور ڈوگرہ مشترکہ افواج سے جنگ لڑ کر آزادی سے ہمکنار کیا تھا۔

گھنے جنگلات ، سرسبز وادیوں ، بہتے دریاؤں ، گنگناتے آبشاروں کی یہ دھرتی ہمالیہ کے دامن میں سیاحوں کیلئے جنت کا درجہ رکھتی ہے۔یہاں کے دن حسین اور راتیں حسین تر ہیں۔آلودگی سے پاک ، صاف و شفاف فضا میں رات کا نظارہ اور بھی دلکش ہوتا ہے۔پہاڑوں پر روشن بجلی کے قمقمے اور آسمان پر جھلملاتے ستارے آپس میں یوں گھل مل جاتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی زمین کہاں پر ختم ہوتی ہے اور آسماں کہاں سے شروع ہوتاہے؟

تین ڈویژنز ، 10 اضلاع ،30تحصیلوں اور 1771 گاؤں پر مشتمل یہ انتظامی طور پر ایک نیم خود مختار ریاست ہے جس کا اپنا آئین ، صدر ، وزیراعظم ، سپریم کورٹ ، جھنڈا اور ترانہ ہے۔تاہم نظریاتی طور پر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔اس ریاست کا دفاع ، امور خارجہ ، کرنسی ، پاسپورٹ اور دیگر امور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ذمہ ہیں۔

1947 سے قبل یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر کے دور دراز سرحدی علاقوں پر مشتمل تھا جہاں تعمیروترقی اور شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔صرف مظفرآباد اور میرپور دو ضلعی صدر مقامات تھے جنہیں میونسپلٹی کا درجہ حاصل تھا۔1947 میں بھارتی طیاروں کی گولہ باری سے یہ قصبے بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے تھے۔آزادی سے قبل تعلیم کی صورتحال یہ تھی کہ پورے آزاد خطے میں چند درجن پرائمری اور مڈل سکول موجود تھے ان حالات میں خواندگی کی شرح ایک فیصد سے کم تھی میلوں دور کسی گاؤں میں کوئی پڑھا لکھا شخص دستیاب ہوتا تھا۔

صحت کی صورتحال بھی اس سے چنداں مختلف نہ تھی۔صرف مظفرآباد اور میرپور کے قصبات میں ابتدائی سطح کے علاج معالجہ کا انتظام تھا۔ذرائع رسل و رسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔صرف کوہالہ سے چکوٹھی تک نیم پختہ سڑک اس خطے کی واحد سڑک تھی جو 1947 سے قبل سری نگر کو روالپنڈی سے ملاتی تھی۔اس کے علاوہ پورے علاقے میں لوگ راولپنڈی اور دیگر شہروں سے غلہ اور اشیائے ضرورت کندھوں پر اٹھا کر سینکڑوں میل کا پیدل سفر کرکے گھر پہنچتے تھے۔بجلی اور پانی کی دستیابی کا حال یہ تھا کہ صرف مظفرآباد میں مقامی طور پر ماکڑی کے مقام پر ایک چھوٹا سا پن بجلی گھر تھا جسے ایک مقامی ہندو انجینئر نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا تھا۔اس پن بجلی گھر کی تعمیر میں بھی ڈوگرہ حکومت کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔پینے کے پانے کی فراہمی کا حکومتی سطح پر کوئی تصور نہ تھا۔خواتین میلوں دور چشموں سے پانی کی گاگریں پاپیادہ اٹھا کر لاتی تھیں۔

سماجی سطح پر یہاں کے عوام کی زندگی ہندو ساہوکاروں کے ہاتھوں اجیرن تھی۔وہ مقامی مسلمانوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اشیائے ضرورت سود پر فراہم کرتے اور اس طرح مسلمان سود در سود کے چکر میں اپنی جائیداد سے بھی محروم ہوجاتے۔ہندو ساہو کار ڈوگرہ انتظامی مشینری کی اشیر باد سے مسلمانوں کی جائیداد کی قرقی کروالیتے اور اس طرح مسلمان جائیداد سے محروم ہوکر برطانوی ہند کے علاقوں کی طرف ہجرت کرجاتے۔

ان حالات میں 1947 میں تقسیم ہند کا مرحلہ آن پہنچا۔تقسیم ہند کے اصولوں کے تحت ریاست جموں وکشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا تھا لیکن ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاستی عوام کی مرضی کے برعکس بھارت سے الحاق کے اقدامات شروع کردےئے۔جس پر یہاں کے مسلمانوں نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف اعلان جہاد کردیا اور اس طرح 13297 کلومیٹر کا یہ علاقہ آزاد کرواکر یہاں آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا۔

آزادکشمیر حکومت کا دارالحکومت ابتداً ضلع پونچھ(موجودہ ضلع سدھنوتی) میں جنجال ہل کے مقام پر رکھا گیا۔غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اس حکومت کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔جنجال ہل کے مقام پرکس درویشانہ شان سے دارالحکومت قائم ہوا، اس کی ایک جھلک آزادکشمیر حکومت کے پہلے چیف سیکرٹری جنہیں اس وقت سیکرٹری جنرل کہا جاتا تھا ، ممتاز ادیت ، دانشور بیوروکریٹ جناب قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں بیان کی ہے۔

’’آزادکشمیر کا دارالحکومت پلندری اور تراڑ کھل کے درمیان جنجال ہل نامی پہاڑی کی چوٹی پر واقع ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس میں ڈھائی تین درجن چھوٹے چھوٹے کچے مکان تھے۔چند مکانوں میں حکومت کے دفتر تھے۔باقی گھر صدر، وزراء اور دیگر سرکاری ملازمین کی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔یہاں مجھے بھی ایک کمرے پر مشتمل کچا کوٹھا مل گیا جس کے ایک کونے میں باورچی خانہ کے طور پر مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا‘‘

’’دفتروں کے کمرے روایتی ساز و سامان سے محروم تھے۔فائلوں کے لیے نہ الماریاں تھیں نہ شلف، عام طور پر پتھر کی سلوں کو ہموار کرکے ان سے کام لیاجاتا تھا‘‘

1949 کے اوائل میں جنگ بندی کے ساتھ ہی دارالحکومت جنجال ہل سے مظفرآبادمنتقل کردیا گیا۔بقول قدرت اللہ شہاب کچھ دفاتر پرانی ضلع کچہری کے ٹوٹے پھوٹے کمروں میں سما گئے اور باقی دفاتر کیلئے اسی عمارت کے احاطے میں بہت سے ٹینٹ نصب کردےئے گئے۔قریب ہی ایک ٹیلے پر سرکاری ملازمین کی رہائش کیلئے ایک خیمہ بستی قائم کردی گئی۔اس وقت تک آزاد علاقے میں ٹیلفون کی سہولت دستیاب نہ تھی۔وفاقی دارالحکومت کراچی سے رابطہ کرنے کیلئے مری جاکر وہاں سے ٹیلیفون پر کراچی بات کرنی پڑتی تھی۔ مظفرآباد میں دارالحکومت کے قیام کے بعد سردار عبدالرب نشر کی خصوصی ہدایت پر آزادکشمیر میں ٹیلیفون کی سہولت فراہم کی گئی۔

آزادکشمیر کے پہلے بجٹ کا حجم تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تھا جس میں سے پچاس ہزار روپے مقامی وسائل سے جمع کےئے گئے جبکہ 90 ہزار روپے وفاقی حکومت کی طرف سے امداد دی گئی ۔

یہ وہ حالات تھے جن میں آزادکشمیر نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔1950 اور 60 کی دہائیاں داخلی استحکام ، انتظامی مشینری کی ترتیب و تشکیل میں صرف ہوئیں۔1970 کے عشرے میں اس ریاست نے حقیقی طور پرترقی کے سفر کا آغاز کیا اور ریاست کے طول و عرض میں تعلیمی ادارہ جات کا جال بچھایا گیا۔جس کے نتیجے میں خواندگی کی شرح میں قابل قدر اضافہ ہوا۔اسی عرصے میں انفراسڑیکچر کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کےئے گئے۔پلوں اور سڑکوں کی تعمیر ، بجلی کی فراہمی ، آب رسانی کے منصوبہ جات ، صحت کی سہولیات کی مبہم رسانی ریاست کی بنیادی ترجیحات قرار پائیں۔ترقی کا یہ سفر 80اور90 کی دہائیوں میں بھی اسی رفتار سے جاری رہا۔اس طرح کے اقدامات سے آزادکشمیر پاکستان کے باقی حصوں کے ہم پلہ ، بلکہ تعلیم اور بعض دیگر شعبوں میں اس سے کہیں آگے نکل گیا۔

جون 2005 میں جب آل پارٹیز حریت کانفرنس کا وفد سرینگر مظفرآباد بس سروس کے ذریعے مظفرآباد پہنچا تو وفد کے اراکین آزادکشمیر کی تعمیروترقی کی صورتحال دیکھ کر دنگ رہ گئے۔بھارتی ذرائع ابلاغ آزادکشمیر کا جو بھیانگ نقشہ آئے روز کھینچتے رہتے ہیں ، یہاں کی صورتحال اس سے قطعی مختلف تھی۔حریت کانفرنس کے قائدین نے آزادکشمیر کی ترقی کو قابل رشک قرار دیا۔

اگرچہ 1992 کے خوفناک سیلاب اور 2005 کے تباہ کن زلزلے نے ترقی کے اس سفر پر منفی اثرات مرتب کےئے اور انفراسڑیکچر کو کاری ضرب لگائی لیکن ریاستی عوام کے جذبہ تعمیر ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی امداد اور عالمی اداروں کے تعاون سے سیلاب اور زلزلے کے اثرات پر نہ صرف قابو پالیا گیا بلکہ ترقی کی نئی منازل طے کرلی گئی ہیں۔

پرانے میرپور شہر کے منگلا ڈیم میں زیر آب آجانے کے بعد عالمی معیار کے نئے میرپور شہر کی تعمیر ، منگلا اور نیلم جہلم ، کوہالہ ، کروٹ سمیت ریاست بھر میں بجلی کے بیسیوں منصوبے ، رٹھوعہ ہریام برج سے لیکر عالمی معیار کے نلوچھی برج تک شاہکار پلوں کی تعمیر، زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں میں عالمی معیار کے تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں کا قیام ، بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی آزادکشمیر تعمیروترقی کی ایک درخشاں مثال ہے۔اس وقت خطے کے 95 فیصد سے زائد گاؤں بجلی ، سڑکوں ، تعلیمی ادارہ جات اور صحت کی بنیادی سہولیات سے لیس ہیں۔آزادی کے وقت کے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے بجٹ کے مقابلے میں آج ریاست کے بجٹ کا حجم94ارب 41کروڑروپے ہے۔آج ریاست میں 2285 بستروں پر مشتمل 20 بڑے ہسپتال ، 396 بستروں پر مشتمل 33 رورل ہیلتھ سنٹرز، 430بستروں پر مشتمل 215 بیسک ہیلتھ یونٹس ، سینکڑوں ڈسپنسریز، EPI، ملیریا، ٹی بی ، لپروسی سنٹر سمیت 1654 ادارہ جات ریاست کے طول و عرض میں صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔یہ صرف سرکاری ہسپتالوں کے اعداد و شمار ہیں۔پرائیویٹ ہسپتال اور ان میں فراہم کی جانے والی سہولیات اس ک علاوہ ہیں۔

اس طرح تعلیم کے میدان میں آزادکشمیر پاکستان کے دوسرے صوبوں سے کہیں آگے ہے۔یہاں تعلیم کا تناسب 77 فیصد ہے جبکہ آزادی کے وقت 1 فیصد سے بھی کم تھا۔آزادکشمیر میں اس وقت 5 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ، تین میڈیکل کالجز، دو کالجز آف ایجوکیشن ، 12 پوسٹ گریجویٹ کالجز، 54 ڈگری کالجز، 99 انٹرمیڈیٹ کالجز ، 55 ہائیر سکینڈری سکولز ، 743 ہائی سکولز سمیت کل 6 ہزار سے زائد سرکاری تعلیمی ادارہ جات ریاست میں تعلیم کے فروغ میں کوشاں ہیں جبکہ ان ادارہ جات کے علاوہ مزید تقریباً چالیس فیصد ادارے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کررہے ہیں۔
بجلی کے شعبے میں نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹس سمیت ریاست بھر میں پن بجلی کے 12 منصوبہ جات زیر کار ہیں جن کی تکمیل وافر مقدار میں بجلی دستیاب ہوگی جبکہ آزادکشمیر کی بجلی کی ضرورت تقریباً 400 میگاواٹ ہے۔آزادی کے وقت ٹیلی فون کی کوئی سہولت دستیاب نہ تھی جبکہ اس وقت آزادکشمیر میں 115 ڈیجٹیل ایکسچینج کام کررہے ہیں جن میں 112998 لائنوں میں Capicty موجود ہے۔اس کے علاوہ ریاست بھر میں تمام نیٹ ورکس کی موبائل فون سروس دستیاب ہے۔

پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے سلسلے میں شہروں کے علاوہ دور دراز دیہات میں بھی گھروں میں واٹر سپلائی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔1947 میں خطے میں صرف کوہالہ سے چکوٹھی تک سڑک کی سہولت دستیاب تھی جبکہ آج آزاد خطے میں 90809 کلومیٹر پختہ اور 6958 کلومیٹر فےئر ویدر روڈز موجود ہیں۔1947 کے صفر کے مقابلے میں اس وقت آزادکشمیر بھرمیں سماجی بہبود، ٹیکنیکل ایجوکیشن ،پولی ٹیکنیک اور پیرامیڈیکس کی تربیت کے سینکڑوں ادارے کام کررہے ہیں۔

ذرا تصور کی آنکھ سے دیکھےئے کہ اگر 1947 میں ہمارے اسلاف نے قربانیاں دے کر یہ خطہ آزاد نہ کروایا ہوتا ،یہاں ایک آزاد حکومت کا قیام عمل میں نہ لایا گیا ہوتا اور پاکستان کی سرپرستی اور فراخدلانہ امداد اس خطے کو حاصل نہ ہوتی تو یہاں زندگی کتنی کٹھن ہوتی؟ یہ آزادی ہی کا ثمر ہے کہ آزاد خطہ ترقی کی دور میں جنوبی ایشیاء کے کسی علاقے سے پیچھے نہیں بلکہ کئی اعتبارات سے اپنے ہمعصروں سے کہیں آگے ہے۔یہاں کے عوام کی بڑی تعداد یورپ ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں خدمات سرانجام دے رہی ہے۔جن کا بھیجا ہوا زرمبادلہ پاکستان اور آزادکشمیر کی معیشت کے استحکام کا ضامن ہے۔یہاں کے جوان بڑی تعداد میں روایتی طور پر پاکستانی فوج میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اور یہ خطہ دفاع وطن کی جنگ میں پاکستان کا بازوئے شمشیر زن ہے۔یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوان مقابلے کا امتحان پاس کرکے پاکستان کی سول سروس میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ریاست جموں وکشمیر کے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں جو وہاں سیاسی ، معاشی ، تجارتی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔الغرض 70 سالہ سفر آزادی ایک روشن اور شاندار سفر ہے جس کی حقیقی منزل مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور پوری ریاست کا پاکستان سے الحاق ہے۔اگرچہ ان 70 سال میں ہم آزادی کشمیر کی منزل حاصل نہ کرسکے لیکن تعمیروترقی ، تعلیم و صحت ، سماجی ، معاشی اور اقتصادی ترقی کے متعدد سنگ میل عبور کےئے ہیں اور کامیابیوں کا یہ سفر جاری ہے منزل کے حصول تک جاری رہے گا۔

بڑھے چلو کہ ابھی وہ منزل نہیں آئی

تحریر:
سید سلیم گردیزی

اپنا تبصرہ بھیجیں