38

زمین میں دباخزانہ برامد

زمین میں خزانہ دبانے کا زمانہ ابھی نہیں ہوا پرانا کیوں کہ رحیم یار خان کا ایک گھر ایسا ہے جہاں ایک شخص نے زندگی بھر کی کمائی بچوں پر لگانے کے بجائے زمین میں دبا کر رکھی۔

نہ بچوں کے لاڈ اٹھائے، نہ بیوی کے نخرے ، نہ خاندان میں لینا دینا رکھا ، نہ اپنی ذات پر کچھ لگایا ، جو کمایا زمین میں دبایا ، بچوں کو بھی روکھی سوکھی کھلائی اور ایک ایک پائی بچائی لیکن کبھی بچوں پر نہ لگائی۔

یہ کہانی ہے رحیم یار خان کے نذیر احمد کی جو کوئی غریب غربا نہیں ، انیس ایکڑ زمین کا مالک ہے اور اس کے اثاثوں کی مالیت چار کروڑ روپے سے زائد ہے لیکن گھر کی حالت دیکھ کرلگتا ہے کہ گھرانہ بہت ہی بری حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔

آج بھی اس کے گھر میں بجلی اور گیس نہیں ، نذیر احمد نے اپنی کمائی کسی پر نہ لگائی، صرف زمین میں دبا کر رکھی لیکن ایک دن بچوں کو بھنک پڑ گئی، بچوں نے زمین کھود کر بیس لاکھ روپے سے زائد کی رقم نکال لی اور اپنے ماموں کو دے دی اور ماموں سے گھر میں بجلی گیس اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے کا کہا۔

نذیر احمد کو پتہ چلا کہ اس کی چھپائی ہوئی رقم غائب ہوگئی ہے تو اس نے چوری کا مقدمہ درج کرایا ، پولیس نے تفتیش شروع کی اور کڑی سے کڑی ملاتے ملزم تک پہنچ گئی۔

پولیس نے رقم بھی برآمد کرلی لیکن نذیر احمد کو سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ بنیادی ضروریا ت سے محروم اس کی شریک حیات اب نفسیاتی اور ڈپریشن کی مریضہ بن چکی ہے۔

نذیر احمد کا کہنا ہےکہ اس نے ساری عمر جو رقم بچا اور چھپا کر رکھی وہ صرف اپنے بچوں کے مستقبل اور ان کی شادی کے لیے تھی، اس کی اور کوئی نیت نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں