101

عدالت سے ٹی وی پر مقابلۂ حسن روکنے کی استدعا

پاکستان میں سخت گیر مذہبی نظریات کے حوالے سے شہرت یافتہ مولانا عبدالعزیز سے وابستہ ایک وکیل نے ٹی وی چینلز پر ایک پاکستانی مقابلہ حسن کے پروگرام کی نشریات رکوانے کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔

شہدا فاؤنڈیشن ٹرسٹ نامی تنظیم کے صدر ایڈووکیٹ طارق اسد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ یہ پروگرام نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں کو مغرب زدہ بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظریے کے بھی خلاف ہے لہذا اسے نشر ہونے سے روکا جائے۔
طارق اسد نے کہا کہ مذکورہ پروگرام پاکستان کے نظریات کے خلاف ہے اور بے حیائی پر مشتمل ہے اس پروگرام کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کی نسل کو مغرب زدہ بنایا جارہا ہے۔

طارق اسد کا موقف تھا کہ انھوں نے 2014ء میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں پیمرا کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ایسے تمام پروگرام جو پاکستان کے نظریے کے خلاف ہوں اور جن میں بھارتی ثقافت جھلکتی ہو انھیں بند کیا جائے اور یہ تازہ درخواست بھی اسی استدعا کا ایک حصہ ہے۔

یہ پروگرام خواتین کے لیے کریم بنانے والی ایک کمپنی کے تعاون سے نشر کیا جاتا رہا ہے اور وکیل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس اشتہار میں لڑکیوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ خود کو جنسِ مخالف کے لیے زیادہ جاذب نظر بنائیں جو کہ شریعت کے مخالف بات ہے۔

شہدا فاؤنڈیشن ٹرسٹ 2007ء میں اسلام آباد کی لال مسجد میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد قائم کی گئی تھی جس کا مقصد اس کارروائی کے دوران مارے جانے والے طلبا و طالبات کے لواحقین اور دیگر متاثرین کو قانونی معاونت اور دیگر امداد فراہم کرنا ہے۔

اس فاؤنڈیشن کی طرف سے پہلے بھی ایسی کئی درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوششیں قرار دے کر تنقید کرتی آئی ہیں۔

اس تازہ درخواست پر ایک سرگرم سماجی کارکن اسد بیگ کہتے ہیں کہ طارق اسد کو چاہیے کہ وہ ان کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی درخواستیں جمع کرائیں جو ان کے بقول انٹرنیٹ پر انتہا پسندی کا پرچار کرتے ہوئے مبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے لوگوں کو اکساتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں