106

کالا باغ ڈیم: نواز شریف کو توہین عدالت کا نوٹس

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے کالا باغ ڈیم نہ بنانے پر میاں نواز شریف سمیت کے علاوہ چاروں صوبائی وزرائے اعلی ٰکے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیےگئے ہیں-

جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ‘ درخواست میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ‘ میاں شہباز شریف ‘ قائم علی شاہ ‘ پرویز خٹک اور عبدالمالک بلوچ سمیت دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار ‘ اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے 2012 میں حکم دیا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں کالا باغ ڈیم بنایا جائے لیکن عدالتی حکم کو پانچ سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل درامد نہیں کیا گیا ۔

حکم پر عمل نہ کیا جانا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ‘ عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر میاں نواز شریف سمیت فریقین کے خلاف توہین ِعدالت کی کارروائی کی جائے۔

درخواست میں اے کےڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ اس ملک میں پانی و توانائی کے بحران کے حل کے لیے کالا باغ ڈیم ناگزیر ہے‘ جبکہ حکومتیں ماضی میں کالا باغ ڈیم کو سیاسی مصلحت کے تحت نظر انداز کرتی آئی ہیں ۔

اسکے علاوہ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہائی کورٹ فریقین کے خلاف توہین ِعدالت کی کارروائی کرے اور ڈیم بنانے کے حکم پر فوری عمل درآمد کا حکم دے‘ عدالت نے درخواست کی سماعت کے بعد سابق نا اہل وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 دسمبر کو جواب طلب کرلیاہے-

گزشتہ سال سینیٹ کے 44 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا تھا کہ ’’تین صوبوں کی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم سے متعلق مخالفت میں قرار داد پاس کی ہے تاہم اگر حکومت کالا باغ ڈیم بنانا چاہتی ہے تو معاملہ سی سی آئی (مشترکہ مفادات کونسل)میں لے جائے اور اس معاملے پر بیان بازی سے گریز کرے۔

ا س سے قبل بیرسٹر ظفر اللہ کی جانب سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر کے لئے ملک گیر سطح پر ریفرنڈم کرانے کے احکامات صادر کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں