32

پاک فوج نے آپریشن خیبرفور مکمل کرلیا

راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبر ویلی میں 15 جولائی کو شروع کئے گئے آپریشن خیبر فور کو مکمل کرلیا گیا ہے جس کے دوران 2 جوان شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق خیبر ایجنسی کی راجگال اور شوال وادی میں شروع کئے گئے آپریشن خیبر 4 کے دوران 253 کلو میٹر علاقہ کلئیر کرایا گیا۔ آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے جب کہ ایک گرفتار اور 4 نے خود کو حوالے کیا۔ آپریشن کے دوران سیکڑوں بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، آپریشن میں تیار آئی ای ڈیز بھی برآمد ہوئیں جب کہ آئی ای ڈی بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیا کا لیبل ملا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا سول ملٹری تعلقات میں کوئی اختلاف نہیں ہم ایک پیج پر ہیں، اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اسے سول ملٹری تعلقات سے نہ جوڑیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جو بھی چاہتا ہے ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر آئے وہ حکومت سے درخواست کرے، ڈان لیکس انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کااختیار حکومت کا ہے اور رپورٹ حکومت کو کھولنی ہے فوج کو نہیں۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو این آر او دینے کے سوال پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ این آر او ایک سیاسی سوال ہے اور فوج نے کسی این آر او کی منظوری نہیں دینی۔ترجمان نے کہا کہ چیرمین سینیٹ کی تجویز پر گرینڈ ڈائیلاگ اگر ہوا تو فوج اس کا حصہ بنے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لاہور کے ارفع کریم ٹاور کے قریب ہونے والے خودکش حملے کا ہدف وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف تھے لیکن آخری لمحے دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر قومی پرچم جلائے جانے کی ویڈیو سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی پاکستان کے پرچم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا، سب کو معلوم ہے کہ کس کے کہنے پر اور کس نے پرچم کو نذرآتش کیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکی وفود کو واضح بتا دیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیے گئے ہیں، امریکا کی پاکستان سے متعلق پالیسی پر دفترخارجہ بیان دے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں ہے اور وہاں کی تحریک آزادی کی ہے جب کہ کشمیر میں جو بھی تحریک ہو بھارت اسے دہشت گردی قرار دے دیتا ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3300 آپریشن کیےگئے، آپریشن شروع ہوا تو فاٹا کے بہت سے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے تاہم آپریشن کے بعد 95 فیصد آئی ڈی پیز واپس گھروں کو چلے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فاٹا میں 147 اسکول ،17 ہیلتھ یونٹس ،27 مساجد قائم کی گئیں، فاٹا کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں جب کہ فاٹا کے نوجوانوں کی رجسٹریشن بھی کی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میں 2013 کے دوران مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا جب کہ مسجد میں آگ لگانے والوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دیناتھا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یوم آزادی پر واہگہ بارڈر پر ایشیا کا سب سے بڑا پرچم لہرایا جس کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ جاسوسی کے لئے لگایا گیا ہے تاہم انٹیلیجنس حاصل کرنے کے لئے ہمیں جھنڈا لگانے کی ضرورت نہیں، ہماری انٹیلی جنس صلاحیت بہت بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں