106

پاناما، نواز شریف، عدلیہ

جولائی کے پورے مہینے میں پاناما کیس نے عوام اور تمام ذرائع ابلاغ کو یرغمال بنائے رکھا۔ جس زور شور اور کم عقلی سے بعض وزرا نے میڈیا کے سامنے عدلیہ کی بے عزتی کی اور مضحکہ خیز الزامات لگائے اس سے یہ نظر آرہا تھا کہ میاں صاحب گینز بک میں ریکارڈ لکھوانے جارہے ہیں۔ سیاست داں تو الگ ان کے خاندان کے افراد بھی سیاست دان بن گئے اورJIT کے سامنے پیش ہونے کے بعد پریس کانفرنسیں کر ڈالیں، ایسا منظر نظر آرہا تھا کہ گویا یہ قومی ہیرو ہیں اور جنگ فتح کرنے کے بعد اپنے کارنامے سنا رہے ہیں۔

ان کا لہجہ غیرمہذبانہ اور سخت ہوتا گیا اور عدلیہ کی بے عزتی شروع کردی اور عوام کو اُکسانا شروع کردیا۔ اگر آپ اتنے بہادر ہیں اور فیصلہ نہیں مانتے تو آپ فیصلے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس نہ چھوڑتے اور کہہ دیتے کہ آپ کو 20 کروڑ نے چنا ہے اور پارلیمنٹ میں جاکر عدلیہ کی چھٹی کردیتے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ 20 کروڑ عوام کے نمائندے کس طرح بن گے بمشکل 8 کروڑ ووٹرز ہیں اور اس میں سے چار کروڑ ووٹ ڈالتے ہیں اور آپ کو میرے اندازہ کے مطابق شاید ایک کروڑ ووٹ ملے ہونگے۔

آپ کس طرح خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان کے سو فیصد ووٹوں کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ان کی کی تقریر سے بغاوت کی بو آرہی ہے اور ان پڑھ، سیدھے سادھے لوگوں کو بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔ آپ سے خود کچھ نہیں ہوا۔ جو مجمع آپ جمع کررہے ہیں اس سے زیادہ مجمع تو اکثر لیڈر جمع کرلیتے ہیں۔ بینظیر نے باہر سے واپسی پر لاہور میں جنرل ضیاء کے وقت 5 لاکھ لوگ جمع کرلئے تھے۔

میاں صاحب آپ عدلیہ پر بے ڈھنگے الزامات لگا کر عوام کو یہ جتانا چاہ رہے ہیں کہ قانون کے معاملہ میں وہ لاعلم ہے اور آپ عالم ہیں۔ آپ باربار ان پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا۔ جب کہ انھوں نے آپ کو جھوٹ پر اور صادق اور امین نہ ہونے پر نکالا ہے۔ آپ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ہائوس سے نکل گئے اگر آپ کو اپنے کیس پر اتنا یقین تھا تو پھر عہدہ کیوں چھوڑا، وزیر اعظم ہاؤس کیوں چھوڑا۔ آپ نے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت نہیں دیا۔

آپ پہلے اور آخری وزیر اعظم نہیں ہیں آپ سے پہلے بھی کئی عہدیدار گھر بھیج دیئے گئے ہیں اور جیل بھی کاٹ رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم، صدر، کوریا کی صدر، برازیل کی صدر، فرانس کے صدر وغیرہ اسی دور سے گزر چکے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ اٹلی کے وزیر اعظم بریسکونی بھی یہ مزہ چکھ چکے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نےبھی چند سیکنڈآپ کے طرح بزدلی کا مظاہرہ کیا مگر اس کے بعد انھوں نے آپ کی طرح ہرزہ سرائی نہیں کی۔

میاں صاحب تمام تعلیم یافتہ اور سمجھدار لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ لندن اور دوسری جگہ جائیدادیں غلط طریقے سے حاصل کی گئی رقم سے خریدی گئی ہیں اگر یہ جائز طریقے سے خریدی گئی ہوتیں تو ان کا ریکارڈ ہوتا، ٹیکس و آمدنی کے پیپر ہوتے، چارٹرڈ اکائونٹنٹس کے سرٹیفکٹ ہوتے۔

جہاں تک پاکستان سے باہر جانے کی رقم کا سوال ہے تو اسکی قطعی ضرورت نہیں۔ آپ براہ راست بنک کے ذریعے یہ رقم دبئی اور استنبول سے بھجوا سکتے ہیں اور قسم کھا سکتے ہیں کہ آپ نے کوئی رقم پاکستان سے باہر نہیں بھیجی ہے۔ یا پاکستانی رقم کسی ذریعے سے باہر نہیں بھیجی ہے۔

میاں صاحب آپ اور آپ کے ساتھی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ آپ نے ملک کو ایٹمی قوّت بنایا یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
آپ کے ساتھیوں نے بھی جھوٹ کے خزانے کھول دیئے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کے دعوے روز ٹی وی پر نظر آرہے ہیں۔ آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی غائب ہے۔ وزیر بجلی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ 2018تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوگی جس طرح خورشید شاہ نے راجہ پرویز اشرف سے کہہ دیا تھا کہ 2013ء تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوگی۔

میاں صاحب بیرسٹر علی ظفر نے آپ کو سمجھایا ہے کہ کورٹ نے آپ کے ساتھ نرمی کی ہے ورنہ جو جعلی کاغذات پیش کئے گئے تھے اس میں وہ آپ کو 7 سال کے لئے قید کرسکتے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جس طرح کے الزامات لگا رہے ہیں معزز عدلیہ یقیناً اپنے فیصلے میں ان کا جواب دے گی تاکہ عوام یہ جان لیں کہ جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ۔ آپ لوگوں کو انقلاب کی دعوت دے رہے ہیں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اپنے مخالفین کا قلع قمع کردیا جائے۔ کیا آپ یہ چاہتے ہیں؟

ملک کو ایٹمی قوّت بھٹو صاحب، جنرل ضیاء الحق، غلام اسحق خان صاحب اور میرے ساتھیوں اور میں نے بنایا۔ جب آپ وزیر اعظم بنے اس وقت درجنوں ایٹم بم تیار رکھے تھے، میزائل بنانے کا سہرا بینظیر صاحبہ، جنرل اسلم بیگ، جنرل وحید کاکڑ اور میری ٹیم کو جاتا ہے۔

ایس ایم ظفر صاحب نے اپنی کتاب ظفر کی کہانی ظفر کی زبانی میں بہت کچھ نرم کرکے لکھا ہے۔ میں نے آپ کی پوزیشن بڑھانے کے لئے بہت کچھ کیا مگر آپ نے احسان کا بدلہ بے رُخی سے دیا۔

جنرل اسلم بیگ، جنرل چشتی، جنرل حمید گل اور چودھری شجاعت نے ٹی وی اور اخبارات میں گواہی دی ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میںنے اپنی زندگی تباہ کرکے اس ملک کی خدمت کی ہے، میں جہاں تھا وہیں اور کسی دوسرے ملک جاکر بہت کچھ کما سکتا تھا مگر میں نے اپنے ملک کی خدمت کو سب پر ترجیح دی۔

میاں صاحب عدالت نے مشرف کو باہر نہیں بھیجا۔ آپ نے بھیجا۔ عدالت نے صرف ECL سے نام ہٹوایا تھا۔ اور ایک معزز جج نے صاف کہا تھا کہ ہم نے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ حکومت کے پاس قوانین ہیں وہ ملزم اور مجرم کو بہ آسانی نظربند کرسکتی ہے اور جانے سے روک سکتی ہے۔ اس پر تو ملک سے غدّاری کا الزام تھا آپ نہ جانے دیتے اور عدلیہ سے درخواست کرتے کہ اسکے گھر کو جیل ڈیکلیرکرکے دو ہفتوں میں اس کو سزا سنا دیتے۔ آپ نے اس کو باہر جانے دے کر دستور کی خلاف ورزی کی ہے۔ بہرحال اللہ پاک آپ پر رحم کرے۔ آمین۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اپنا تبصرہ بھیجیں