53

چوہدری نثار نے امیدوں پر پانی پھیر دیا

مسلم لیگ (ن) کے اندر پیدا شدہ اختلافی عمل کسی حد تک پارٹی لیڈرشپ اور جماعت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے ، کیا اختلاف رائے کی بنیاد پر بدلتے سیاسی منظرنامہ میں حکمران جماعت تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے ؟ قومی اداروں کو کون ٹارگٹ کر رہا ہے اور کیوں یہ پارٹی پالیسی کا حصہ ہے یا پارٹی کے اندر موجود سخت گیر رہنما اپنی لیڈرشپ کی نااہلی کے بعد ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں ؟، یہ وہ سوالات ہیں جو حکمران جماعت کے حوالے سے پیدا ہوئے اور جماعتی ذمہ داران ان کی الگ الگ تشریح کرتے نظر آ رہے ہیں ۔

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنس سے مخالفین اور پاکستانی میڈیا نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اور کہا یہ جا رہا تھا کہ چودھری نثار کا اداروں کے حوالے سے نقطہ نظر پارٹی کے اندر تقسیم کا واضح اشارہ ہوگا ، مگر انہوں نے مخالفین کی امیدوں اور توقعات پر پانی پھیر دیا جبکہ اختلافات کے باوجود پارٹی ڈسپلن کے پابند اور قیادت کیساتھ کھڑے نظر آئے ، ساری پریس کانفرنس میں انہوں نے پارٹی قیادت سے ایشوز کی بنیاد پر اپنے اختلافات کا ڈھکا چھپا اظہار تو کیا مگر اس سے زیادہ ایک قدم بھی آگے نہیں گئے ، جو اس امر کا اظہار تھا کہ مسلم لیگ میں اس کی روایت کے برخلاف مثبت تبدیلی آ رہی ہے جس میں پارٹی قیادت سے اختلافات کا اظہار تو ہو سکتا ہے ، وزارت سے استعفیٰ بھی دیا جا سکتا ہے مگر پارٹی کے نظریاتی اور سیاسی نقطہ نظر سے اختلاف کر کے پارٹی قیادت کے کپڑے اتارنے اور ٹارگٹ کرنے کا کلچر ختم ہو رہا ہے ، جو پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کے فروغ میں ایک پیش رفت ہے ۔

جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ قومی اداروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور کون کر رہا ہے ؟ تو نواز شریف کی نااہلی پر ایک فطری ردعمل تو جماعت کے اندر موجود ہے مگر مسلم لیگ تاریخی طور پر کبھی بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ لائن نہیں لیتی ، مگر وقت کے ساتھ مسلم لیگ ن کے اندر اس نظریہ کیخلاف ایک عنصر 1999 کے بعد ایسا ضرور آیا ہے جو مزاحمتی سیاست کو رواج دیکر پارٹی میں اپنا کردار چاہتا تھا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ،جس کی وجہ سے پارٹی میں موجود سنجیدہ عنصر مایوسی سے دوچار ہوا اور وہ اپنی اس مایوسی کا اظہار بھی کرتا پایا گیا ، یہ امر بھی ایک بڑی حقیقت کے طور پر سامنے آیا کہ مزاحمتی سیاست کرنے والوں کو لیڈرشپ کی سطح پر پذیرائی بھی ملی اور آج پارٹی اسی بنا پر کشمکش سے دوچار ہے

مفاہمتی اور مزاحمتی کردار کے حامل افراد کی پارٹی اور قیادت سے کمٹمنٹ تو ہے مگر حکمت عملی کا انداز اپنا اپنا ہے ، جو حکام ڈان لیکس کے ایشو پر خواہش رکھتے تھے کہ وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ اس معاملہ پر دست و گریبان ہو جائیں،وہ اب بھی سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی کے اس بدترین تنازع کی اب دوبارہ بازگشت کر کے پارٹی لیڈرشپ میں دوریاں بڑھانا چاہتے ہیں ، لیکن حالات کی سنگینی پر گہری نظر رکھنے والے اب یہ سمجھتے ہیں کہ مزاحمتی کردار ادا کرنے کے بجائے وفاق اورصوبے میں اپنی حکومتوں کو کام اور بہتر گورننس کیلئے فری ہینڈ دیا جائے ۔حالات کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ماضی کے تنازع کا گہرائی سے جائزہ لے اور ایسی حکمت عملی اختیار کرے جو ایک طرف پاکستان کے اندر سیاسی استحکام کا باعث بنے اور دوسری جانب جماعت کا وفاقی کردار بھی قائم رکھے ،

ملکی حالات و واقعات اور چیلنجز کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر ڈھکا چھپا نہیں کہ دشمن پاکستان کے اندر انتشار ، عدم استحکام اور انارکی چاہتا ہے اور اس مقصد کیلئے طے شدہ حکمت عملی کے تحت بعض اداروں کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہے ، لہٰذا جب تک سیاسی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور ادارے اپنی حدود کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو ایک کشمکش کی صورتحال طاری رہے گی ، جس کا نقصان سیاسی جماعتوں یا اداروں کو نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت دفاع اور اندرونی استحکام کو ہوگا، لہٰذا سب کو اپنے اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرتے ہوئے اپنے ذاتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی ۔

تجزیہ : سلمان غنی

اپنا تبصرہ بھیجیں