24

دوستوں کی شرط نے پورا خاندان اجاڑ دیا

صوبہ پنجاب کے ضلع گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان شرط جیتنے کی کوشش میں دریائے جہلم میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

نوجوان نے دوستوں کی جانب سے دریا پار کرنے پر اسمارٹ فون اور 15 ہزار روپے کی مبینہ پیش کش پر پانی میں چھلانگ لگائی۔

جمعہ (18 اگست) کی شام 19 سالہ نوجوان علی ابرار نے کُنیر پکنک پوائنٹ پر پانی میں چھلانگ لگائی جہاں دریا کی لہریں اسے بہا لے گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان دریا میں چھلانگ لگانے کے کچھ ہی دیر بعد پانی میں غائب ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق علی ابرار دریا میں چھلانگ نہیں لگانا چاہتا تھا تاہم دوستوں کے اصرار پر اس نے ایسا کیا۔

ویڈیو میں نوجوان کے دریا میں چھلانگ لگانے کے فوراً بعد اس کے دوستوں کو روتے ہوئے اور مدد طلب کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

علی اکبر کے ڈوب جانے کے بعد سے مقامی پولیس، غوطہ خور اور ریسکیو 1122 کے اہلکار اس کی لاش کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم اتوار (20 اگست) کی شام تک اسے تلاش نہیں کیا جاسکا۔

بکوٹ پولیس اسٹیشن کے رپورٹنگ انچارج کے مطابق متاثرہ نوجوان کے دوستوں کو گرفتار کرکے سیکشن 322 کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

نوجوان کے دوستوں کی شناخت اسامہ، طلحہٰ، ذیشان، شعیب اور راحت کے نام سے کی گئی جبکہ ان تمام کا تعلق گجرانوالہ سے ہے، ملزمان کو آج مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں