21

لاہور ہائیکورٹ; وکلاء کا احتجاج، پولیس کی شیلنگ

لاہور ہائیکورٹ میں ملتان توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران بار کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے پر وکلا نے احاطہ عدالت میں احتجاج کرتے ہوئے عدالت عالیہ کا دروازہ اکھاڑ دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے ملتان توہین عدالت کیس کی سماعت کی اور توہین عدالت کے الزام میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بار کے صدر شیر زمان کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایڈووکیٹ شیر زمان کو گرفتار کر کے کل عدالت میں پیش کیا جائے اور ساتھ ہی شیر زمان قریشی اور قیصر کاظمی کے وکالت کے لائسنس بھی معطل کرنے کا حکم دیا۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران وکلا کی بڑی تعداد لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں موجود تھی جنہوں نے عدالت کے فیصلے کے بعد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی جبکہ عدالت عالیہ کے احاطے میں لگا ایک لوہے کا دروازہ اکھاڑ دیا۔

اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر وکلا کو روکنے کی کوشش کی تاہم وکلا نے احتجاج جاری رکھا اور نعرے بازی کی۔

وکلا کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور آنسو گیس فائر کیے جس کے بعد وکلا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم پولیس، وکلا کو عدالت کے ساتھ منسلک مال روڈ کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں