24

نوازشریف نے اپنے بھتیجے حمزہ شہباز کو نکال دیا

لاہور: سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے این اے 120 کی انتخابی مہم سے اپنے بھتیجے حمزہ شہباز کو علیحدہ کردیا۔

میاں نوازشریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 کی نشت پر ضمنی انتخاب 17 ستمبر کو ہوگا جس کے لیے کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں۔

این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم حمزہ شہباز نے چلانا تھی لیکن میاں نوازشریف نے ضمنی الیکشن کے لیے مہم سے شہبازشریف کے بیٹے اور اپنے بھتیجے حمزہ شہباز کو علیحدہ کردیا جب کہ وزیر تجارت پرویز ملک کو انتخابی مہم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں نوازشریف نے شہبازشریف، حمزہ شہباز اور پرویز ملک کو جاتی امرا بلایا تھا جس میں انہوں نے پرویز ملک کو انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داریاں سونپی تھیں تاہم اس دوران پرویز ملک نے نوازشریف سے کہا کہ حمزہ شہباز اچھی انتخابی مہم چلاتے ہیں اس لیے انہیں رکھا جائے لیکن نوازشریف نے ان کی تجویز مسترد کردی اور انہیں انتخابی مہم کا انچارج مقرر کردیا۔

ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف کی جانب سے اس فیصلے پر حمزہ شہباز نے کہا کہ وہ ایک ورکر ہیں اور ورکر بن کر کام کریں گے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے قریبی حلقوں سے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا اور انتخابی مہم کے دوران بیرون ملک جانے کا عندیہ دیدیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ شریف خاندان کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور شہبازشریف کی جانب سے آج اداروں پر بیان بازی سے متعلق پابندی نوازشریف کی اجازت کے بغیر لگائی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کی صورتحال پر گزشتہ روز شہبازشریف اور چوہدری نثار کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا جس میں پارٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورائیہ کا کہنا ہےکہ این اے 120 کی انتخابی مہم کے دوران حمزہ شہباز لاہور میں ہی ہوں گے اور مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔ جب کہ پنجاب حکومت کے ذرائع نے بھی کہا ہے کہ چوہدری نثار اور شہبازشریف کے درمیان گزشتہ روز کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں