44

پرویز مشرف کی بدروح نواز شریف کی دشمن

سابق وزیراطلاعات پرویز رشید نے اپنے استعفے کو جمہوریت بچانے کے لیے قربانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال کی سازش کے پیچھے پرویز مشرف کی بدروح ہے۔

نجی ٹی وی سماء کوایک انٹرویو میں پرویز رشید نے کہا کہ ‘پاکستان میں ایک روح ہے جو پھرتی رہتی ہے بلکہ بد روح ہے جس کو میں پرویز مشرف کہتا ہوں جو سیاسی جماعتوں، سیاسی ذہنوں میں اور کہیں نہ کہیں دوسرے اداروں میں موجود ہے، ادارے کا نام نہیں لے رہا بلکہ افراد میں موجود ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سے پہلے وزراء اعظم جب نکالے جاتے تھے تو اپنے گھروں کو جاتے تھے دو چار مہینوں میں لوگوں کو ان کا نام بھی یاد نہیں رہتا تھا اس مرتبہ لوگوں نے فوری ردعمل دیا ہے’۔

سازش کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘جو سوچ ہے اس سوچ کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہورہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف نےجوکچھ کیا وہ مہرے کا کردار ہی تھا، اور اس سوچ کو تبدیل بھی کرنا پڑے گا، اس کا راستہ بھی روکنا ہوگا اور اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا’۔

سابق صدرپرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ان کے بھیجنے میں ہمارا کردار نہیں تھا لیکن ہم روک نہیں سکے، اس لیے روکنے کاکام ہم اکیلے نہیں کرسکتے تھےاس کے لیے پوری ریاست کے تمام اداروں کی مدد چاہیے تھی جو ہمیں میسر نہیں ہوسکی جبکہ وہ خود اپنی زبان سےکہہ چکے ہیں انھیں بھیجنے میں کسی اور نے مدد کی تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزارت داخلہ ہوتے ہوئے ہمارے خلاف فیصلے بھی ہوئے ہیں، وزارت داخلہ ہوتے ہوئے جے آئی ٹی بھی بنی ہے اور وٹس ایپ بھی ہوئے ہیں’۔

وزارت سے استعفے پر بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ ‘یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہےمیں ایک سیاسی کارکن ہوں اور سیاسی کارکن کے طور پر پہلے بھی کردار ادا کرتا تھا اب بھی کرتا جارہاہوں، بہت سے سچ اپنے وقت پر ثابت ہوتے ہیں اور جمہوریت ابھی ناتواں ہے اور لڑکھڑاتی ہے، دھکے کھا جاتی ہے اس کو بچانے کے لیے اگرمیری ذات کی قربانی دینی پڑتی ہے تو میں نے خوشی سے اس قبول کیا’۔

یاد رہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے ڈان خبر کے معاملے پر کوتاہی برتنے پر پرویز رشید سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے لیا تھا۔

پرویز رشید نے کہا کہ ‘میرے وزیراعظم بھی اس فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اس لیے صبر سے کام لیتے ہیں’۔

دوسری جانب سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کے ترجمان نے پرویز رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘معلوم نہیں کہ کچھ لوگ اپنی ناکامیوں پر وزارت داخلہ پر الزام کیوں دیتے ہیں’۔

چوہدری نثار کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈان خبرمعاملے پر 6 رکنی کمیٹی کے ارکان میں سے صرف ایک وزارت داخلہ کاتھا اور اگر اخلاقی جرأت ہے تو پرویز رشید ڈان خبرمعاملے کی رپورٹ عام کرنے کامطالبہ کریں۔

خیال رہے کہ پرویزرشید کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مسلم لیگ نواز اورسابق وزیراعظم نواز شریف اپنی نااہلی کے حوالے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کررہے ہیں اور اس مبینہ طور پر سازش قرار دیتے ہوئے ووٹ کے تقدس کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کررہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں