106

ینگ ڈاکٹرز کا ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں بند کرنے کا اعلان

پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کیلئے ایک بار پھرمنگل( 15اگست )سے لاہور سمیت صوبہ بھر کے ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ سوموار کو ایک روزکیلئے رضا کارانہ طور پر ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں کھولی گئیں ۔

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال14 ویں روز میں داخل ہورہی ہے ۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق وائے ڈی اے کی جانب سے مذاکرات کی میز پر تمام معاملات کو حل کرنے اورلچک دکھانے کے باوجود حکومت کے غیر سنجیدہ رویہ کے باعث جنرل کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ 15اگست سے لاہور سمیت صوبہ بھرکے تمام بڑے چھوٹے ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کر دی جائیں گی اور ایمرجنسیاں بند ہونے سے جو حالات پیدا ہوں گے اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی سیکرٹری صحت اور حکومت پر عائد ہو گی ۔

اس موقع پر رحیم یار خان میں لیڈی ڈاکٹروں کے ہاسٹل پر پولیس گردی کی شدید مذمت کی گئی۔ادھر ہڑتال کے باعث گزشتہ روز پی آئی سی کی ایمرجنسی سمیت دیگر ہسپتالوں میں 13روز بھی ان ڈور ز میں ہڑتال جاری رہی جس سے زیر علاج مریضوں کو مشکلات و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہسپتالوں میں نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سمیت سینئر ڈاکٹروں نے مریضوں کو علاج معالجے کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

محکمہ صحت نے ینگ ڈاکٹرز کے اعلان کے بعد ایمرجنسیز کو چلانے اور ہڑتال سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی طے کر تے ہوئے ہسپتالوں کی انتظامیہ کی ہدایت کی ہے کہ نئے بھرتی کئے جانے والے ڈاکٹروں سمیت سینئر ڈاکٹروں سے ایمرجنسی کو ہر حال میں فنگشنل رکھا جائے اور کسی بھی مریض کو مشکل سے دوچار نہ ہونے دیا جائے ۔ینگ ڈاکٹرز کے رویہ اور ایمرجنسیاں بند کرنے کے اعلان پر سینئر ماہرین صحت پروفیسرز اسسٹنٹ پروفیسروں اور سیاسی و سماجی رہنمائوں نے شدید درعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ڈاکٹروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائے جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کر کے غریب مریضوں کو پریشانی و مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں