25

قوم ججز صاحبان سے پوچھے نواز شریف کو کیوں نکالا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 2013 میں بجلی نہیں تھی، دکانیں اور کارخانے بند ہورہے تھے، ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، ہم نے دن رات ایک کرکے بجلی کے کارخانے لگائے، آج لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہوچکی ہے۔

جہلم میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 2013 میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ملک کو ترقی کی طرف لے کر جاؤں گا۔ ن لیگ کی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو فروغ دیا اور اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ اگلے سال لوڈشیڈنگ کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ دیا جائے گا۔ آپ سے وعدہ کیا تھا پاکستان میں امن قائم کروں گا، کراچی کا حال کتنا خراب تھا، کراچی کی روشنیاں واپس لائے، بلوچستان کا امن بحال کیا، بلوچستان ڈوب رہا تھا، کراچی برباد ہورہا تھا، آج ملک میں موٹر وے بن رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے 5 ججوں نے ایک منٹ میں فارغ کردیا، کیا میں نے کرپشن کی تھی؟ قوم پوچھے نواز شریف کو کیوں نکالا؟ انہوں نے خود تسلیم کیا کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ کوئی کرپشن کا دھبہ نہیں تو کیوں نکالا گیا؟ میں پوچھتا ہوں مجھے کیوں نکالا؟ یہ وزیراعظم کی نہیں 20 کروڑ عوام کی توہین ہے، آپ ووٹ دے کر وزیراعظم بناتے ہیں، حکومت بناتے ہیں، کوئی ڈکٹیٹر اور کوئی جج آکر آپ کے ووٹ کی پرچی کو پھاڑ دیتا ہے، یہ توہین آپ کو برداشت ہے؟ اگر یہ توہین برداشت نہیں تو اسے بدلنا ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ آپ نے مجھے اسلام آباد پہنچایا اب مجھے گھر بھیجا جارہا ہے، نوجوانوں مایوس نہ ہونا خدا تمہارے ساتھ ہے، پاکستان کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا۔ میں آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، کام شروع کیا تو دھرنے والے میدان میں آگئے، ایک مولوی صاحب کینیڈا سے آگئے، مولوی صاحب کے دل میں ہر 3 ماہ بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے، مولوی صاحب رہتے کینیڈا میں ہیں، مولوی صاحب نے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں، پھر دھرنا نمبر دو آگیا، اس میں بھی کلین چٹ مل گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کہتے ہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ کیوں نہیں لی، کوئی اپنے بیٹے سے بھی تنخواہ لیتا ہے؟ 70 سال سے یہی کچھ ہورہا ہے۔ ہر وزیراعظم کو تقریبا ڈیڑھ سال اقتدار ملا، آمروں نے یہاں 10 ، 10 سال حکومت کی۔ آمر کمر میں درد کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر چلاگیا۔ ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو ڈکٹیٹروں کو سزا دے سکے، ڈکٹیٹر آئین توڑتے ہیں اور جج ان کو تحفظ دیتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے ججز صاحبان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے نواز شریف کو نکال کر بہت اچھا کیا، یہ وہی نواز شریف ہے جس نے ایٹمی بٹن پر انگوٹھا رکھا تھا، کیا جواب دو گے اللہ کو اور اس قوم کو، قوم سب سوالوں کا جواب مانگتی ہے۔ پاکستان پچھلے 70 سالوں سے بھٹک رہا ہے، قوم کا فیصلہ ہے اب پاکستان کا گلا دبانے کی اجازت نہیں دے گی، جس کو آپ ووٹ دیں اس کو آپ ہی نکالیں، پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے ساتھ دو گے؟ جہلم میرے ساتھ چلے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں