33

پاکستانی مدر ٹریسا انتقال کر گئیں

پاکستان میں جزام (کوڑ کا مرض) کے خاتمے کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

میری ایڈی لیڈسوسائٹی کی سربراہ اور معروف سماجی کارکن ڈاکٹر روتھ فاؤ کو طبیعت خراب ہونے پر کراچی کے نجی اسپتال لایا گیا جہاں وہ 2 روز زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی تنظیم کی جانب سے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر روتھ کی آخری رسومات 19 اگست کو صبح گیارہ بجے سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی جائیں گی جس کے بعد انہیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

87 سالہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کو پاکستانی مدر ٹریسا بھی کہا جاتا ہے جو 60 کی دہائی میں جذام کے مرض کے خاتمے کے لئے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جرمنی سے پاکستان آئیں اور اپنی ساری زندگی پاکستان میں انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردی۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ گزشتہ 56 برسوں سے انسانیت کی خدمت کے لئے کوششوں میں مصروف تھیں اور وہ کراچی میں قائم میری ایڈی لیپروسی سینٹر ہی میں بنے دو کمروں کے ایک مکان میں رہائش پذیر تھیں۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی میری ایڈیلڈی لیپروسی سینٹر نامی غیر سرکاری تنظیم کراچی سمیت ملک بھر میں جلد کی خطرناک بیماری ‘جذام’ کے خلاف مفت علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جذام کی بیماری کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے انسانیت کی خدمت کے اعتراف میں انہیں ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز اور ہلال پاکستان سمیت لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں