26

عبدالستار ایدھی کو بچھڑے تین برس بیت گئے

دن گزرے، کیلنڈر پر مہینے تبدیل ہوئے اور عبدالستار ایدھی کو قوم سے تین سال پلک چھپکتے ہی گزر گئے۔

وہ دنیا کا امیر ترین غریب انسان جس نے خدمت کے نئے معنیٰ متعارف کرائے۔ وہ انسانوں کا مسیحا، دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز، رنگ ونسل اور عقیدے کی تمیز سے ماورا جس کے نزدیک سب انسان برابر تھے۔

عبدالستار ایدھی حیات تھے تو انسانیت کا روپ تھے دنیا سے رخصت ہوئے تو بابائے خدمت بن گئے۔ انسانیت کے لیے اپنی زندگی ؤقف کرنے والے عبدالستار ایدھی سات دہائیوں تک انسانیت کی بلاتفریق خدمت کرتے رہے۔ انہوں نے بیس ہزار سے زائد بچوں کی سرپرستی کا بھی بیڑا اٹھایا۔

عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 11برس کی عمر میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو ذیابیطس میں مبتلا تھیں، صرف 5 ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی۔

ایدھی نے لاوارث بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کے لیے مراکز قائم کیے۔ سال 1973 ء میں جب کراچی شہر میں ایک پرانی رہائشی عمارت زمین بوس ہوئی تو ایدھی ایمبولینسیں اور ان کے رضا کار مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچے۔ اس دن کے بعد سے آج تک ملک بھر میں کوئی بھی حادثہ ہو، ایدھی ایمبولینسیں مدد فراہم کرنے میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔

ایدھی نے صرف ایمبولینس ہی نہیں بلکہ بھوکے افراد کے لیے بھیک مشن شروع کیا تو چند گھنٹوں میں کروڑ روپے جمع کیے۔ لاوارث بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کے لیے مراکز قائم کیے۔ تقریباﹰ ایک لاکھ بے گور کفن لاوارث لاشوں کی صرف کراچی میں عزت و احترام کے ساتھ تدفین کی۔

ایدھی صاحب کو 2006 میں کراچی کے معتبرو معروف تعلیمی ادارے آئی بی اے کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی۔ یہ اعزازی ڈگری ایدھی صاحب کی انسانیت کی خدمت اور رفاحی کاموں کے اعتراف کے طور پر دیے گئے۔

عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انیس توپوں کی سلامی دی۔ ان کی میت کو گن کیرج وہیکل کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا۔

عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک نے عبد الستار ایدھی کا یادگاری سکہ بھی جاری کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 50روپے مالیت کے عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب 50روپے مالیت کے 50 ہزار سکے جاری کیے گئے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یاد گاری سکوں کا سلسلہ 1976 کو شروع ہوا تھا۔ اب تک پاکستان میں 5 شخصیات کے یادگاری سکےجاری کئے گئےجبکہ بابائے قوم محمد علی جناح کے حوالے سے 3 یادگاری سکے جاری ہوچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک مختلف مواقعوں کے اب تک 27 سکے جاری کرچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں