169

بلوچستان لبریشن آرمی کیسے وجود میں آئی؟

بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس کا نام شدت پسندی کی بڑی کارروئیوں میں آتا رہا ہے۔ان کارروائیوں میں دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ اور کچھ عرصہ قبل گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل پر حملہ شامل ہے۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارا گیا تھا جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی گئی تھی۔ تاہم ضیاالحق کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے مذاکرات کے نتیجے میں مسلح بغاوت کے خاتمے کے بعد بی ایل اے بھی پس منظر میں چلی گئی۔

پھر سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد 2000 سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری تنصیات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان کا دائرہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔

ان حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی۔

2006 میں حکومتِ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا اور حکام کی جانب سے نواب خیر بخش مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جاتا رہا۔ نومبر 2007 میں بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر آئی اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ افغانستان کی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز سے ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگیا ہے.

نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کی قیادت میں جو نام ابھر کر سامنے آیا وہ اسلم بلوچ تھا۔ ان کا شمار تنظیم کے مرکزی کمانڈروں میں کیا جانے لگا۔ بی ایل اے کی جانب سے اگست 2018 میں سب سے پہلے جس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی وہ خود اسلم بلوچ کے بیٹے نے ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کے قریب کیا تھا۔

اس حملے میں سیندک منصوبے پر کام کرنے والے افراد کی جس بس کو نشانہ بنایا گیا تھا اس پر چینی انجینیئر بھی سوار تھے۔ اس کے بعد کالعدم بی ایل اے نے نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ تین خود کش حملہ آوروں نے کیا تھا۔

اس حملے کے بعد ہی قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک مبینہ خودکش حملے میں اسلم اچھو کی ہلاکت کی خبر آئی اور اطلاعات کے مطابق اب بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

قیادت میں تبدیلی کے باوجود تنظیم کی جانب سے ’فدائی‘ سکواڈ کی کارروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں اور رواں سال مئی میں گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل پر بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے ارکان نے ایسا ہی ایک حملہ کیا۔

امریکہ کی جانب سے بی ایل اے پر پابندی کے اس اقدام سے شاید بی ایل اے کی بلوچستان میں جاری کارروائیوں پر فرق نہ پڑے مگر علامتی طور پر اس کی کافی اہمیت ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں