128

بلوچستان لبریشن آرمی دہشت گرد تنظیم قرار

امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرکے کلعدم قرار دے دیا ۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جبکہ جند اللہ کا نام بھی امریکی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جنداللہ نے سال 2012 میں جیش العدل کا نام استعمال کرنا شروع کیا ۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان لبریشن آرمی ایک مسلح علیحدگی پسند گروپ ہے، جو خاص طور پر پاکستان کے بلوچ نسل والے علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور سولین آبادی کو ہدف بناتا ہے‘‘۔ بی ایل اے کی جانب سے گزشتہ سال پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے کیے گئے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بی ایل اے نے گذشتہ سال متعدد دہشت گرد حملے کیے، جن میں اگست 2018ء کا خودکش حملہ شامل ہے، جس میں بلوچستان میں چینی انجنیئروں کو نشانہ بنایا گیا۔ نومبر 2018ء میں کراچی میں چین کے قونصل خانے کا حملہ اور مئی 2019ء میں بلوچستان میں گوادر کے ایک پر تعیش ہوٹل پر حملہ شامل ہے‘‘۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’دہشت گرد قرار دینے کی کارروائی کے ذریعے تنظیموں اور افراد کو بے نقاب اور اکیلا کیا جاتا ہے، تاکہ انھیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جائے۔ مزید یہ کہ دہشت گرد قرار دیے جانے سے امریکی اداروں اور دیگر حکومتوں کے قانون کے نفاذ سے تعلق رکھنے والوں کو مدد مل سکے‘‘۔

دوسری جانب، پاکستان نے امریکہ کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے بلوچستان لبریشن آرمی کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کو نوٹ کیا ہے‘‘۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بی ایل اے حالیہ عرصے میں ملک میں کئی دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے؛ اور 2006 سے اسے پاکستان میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’امید ہے امریکہ کی جانب سے دہشت گرد فہرست میں شامل کیے جانے سے بی ایل اے کی کارروائیوں میں کمی ہوگی‘‘۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے، اس کے آرگنائزرز، معاونت کار اور بیرونی سرپرستوں کا بھی احتساب کیا جائے گا، اور انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں