88

ڈالر کی بڑھتی قیمت اور پاکستانی قوم

آج سے تقریبا ایک سال قبل امریکا اور ترکی کے درمیان معاشی جنگ دیکھی گئی جس کے نتیجے میں ترک لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گر گئی اور چھ لیرا دے کر ایک ڈالر ملنے لگا۔ یہ صورتحال ترکی کےلیے انتہائی تشویشناک تھی کیونکہ ڈالر کی بڑھتی قیمت ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی تھی لہذا اپنی کرنسی کو استحکام دینے کےلیے ترک حکومت نے چند اہم اقدامات کیے اور ترک لیرا کی قدر کو مزید کم ہونے سے بچا لیا۔ ترک حکومت نے امریکا کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ترک قوم نے احتجاج کے طور پر امریکی ڈالرز خریدنا روک دیے اور پہلے سے موجود ڈالرز بیچنا شروع کر دیے۔ آن اقدامات سے ترک حکومت نے لیرا کی کم ہوتی قدر پر کسی حد تک قابو پایا جس کے نتیجے میں ایک ڈالر تقریبا تین لیرا تک آگیا، یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ ترک قوم امریکا کےخلاف ایک ہوگئی۔

اب تقریبا ایک سال بعد پاکستان کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جس کا آغاز 2017 کے وسط میں ہوا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔ نوا شریف کے جاتے ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے لگی۔ پھر نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی ڈالر کی بڑھتی قیمت پر قابو نہ پاسکے اور انتخابات سے قبل جو ڈالر سو روپے سے نیچے تھا وہ سنچری کر گیا، باقی رہی سہی کسر عبوری حکومت اور تحریک انصاف کی نئی حکومت نے پوری کر دی۔ لہٰذا آخری اطلاعات تک ڈالر ڈیڑھ سو روپے سے اوپر جا چکا تھا۔ آئی ایم ایف سے ہونے والے چھ ارب ڈالر قرض کے معاہدے کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ معیشت کی اس خراب صورتحال میں پاکستانی قوم نے اپنے ذاتی مفاد کےلیے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی جس کی وجہ سے طلب بڑھنے سے ڈالر مزید مہنگا ہوتا گیا۔ ملک کی خراب صورتحال کے پیش نظر معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بھی پاکستانی قوم کو تنبیہ کی اور ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کرنے کو گناہ قرار دیا لیکن جیسا کہ ذاتی مفاد کے آگے انسان اندھا ہوجاتا ہے لہذا عوام ڈالر کی ذخیرہ اندوزی سے نہیں روکے۔

یہاں ترکی کی مثال صرف اسکے اقدامات کی وجہ سے دی گئی ہے ورنہ ترکی کا پاکستان کی معیشت سے کوئی مقابلہ نہیں کیونکہ ترک معیشت عالمی مالیاتی ادارے کے قرض میں نہیں جکڑی ہوئی البتہ پاکستانی معیشت قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

بہرحال، ترکی کی مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستانی قوم کو بھی ملکی مفاد میں متحد ہونے کی ضرورت ہے اور یہ کام باتوں کے بجائے عملی طور پر کرنا ہوگا۔ ترک کرنسی کے زوال کے وقت پاکستانی قوم نے بڑی تعداد میں ترک لیرا خرید کر ترک معیشت کو استحکام دینے کی کوشش کی۔ بالکل اس طرح پاکستانی قوم کو بھی اپنے ملک کی کرنسی کی خاطر ڈالر کی خرید کو نفع کمانے کےلیے رکنا ہوگا جبکہ ڈالر کی شکل میں پہلے سے موجود رقم کو بیچ کر ملکی کرنسی حاصل کرنا ہوگی۔ اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر جب تک ملک کی مدد خود نہیں کریں گے تب تک ملکی معیشت کو گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں