53

سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کو عہدے سے دراصل کیوں ہٹایا گیا ؟

حکومت نے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کو عہدے سے ہٹا دیاہے اور ان کی جگہ باقر رضاکو عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے اور انہوں نے ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو شدید تنقید کا بھی سامنا ہے تاہم اب پاکستان کی مقامی خبر رساں ایجنسی نے اس کے پیچھے پکنے والی کہانی کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ طارق باجوہ حکومتی احکامات پرعملدرآمد میں بار بار رکاوٹ بنتے رہے، اقتصادی معاملات سے متعلق وزیراعظم کے احکامات کو بھی نظر اندازکیا ، کاروباری افراد کوواجب الادا رقم کی ادائیگی کے واوچر جاری کرنے سے بھی انکار کیا، 400ارب روپے کے واوچرجاری کرنے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی ۔

تفصیلات کے مطابق ” آن لائن “ کا کہناہے کہ طارق باجوہ وفاقی کا بینہ اور حکومتی عملدرآمد میں بار بار رکا وٹ بنتے رہے۔طارق باجوہ سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کے بہت قریب تھے اور اکثر اوقات ان سے معلو ما ت کا تبادلہ کرتے رہتے تھے۔طارق باجوہ نے حکومت کو بغیربتائے روپے کی قدر کم کی تھی، وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ڈالرکی قدر میں اضافے کا ٹی وی سے علم ہوا انہو ں نے پاکستان بناو سرٹیفکیٹ کے اجرا کے روزشرح سود بڑھا دی تھی، ان کے اقدام پر وزیراعظم عمران خان اوروزرا نے اظہارناراضی کیا تھا۔

سابق گورنراسٹیٹ بینک نے 2013 میں پارلیمنٹ کوغلط اعداوشمار پرمبنی سمری بھیجی جس میں بتایا گیا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالرز موجود ہیں 2014 میں دھرنے کے دوران سوئس حکام سے رقم کی معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا، چیئرمین ایف بی آرطارق باجوہ کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی۔طارق باجوہ نے آخری لمحات میں اپنا دورہ منسوخ کرکے جونیئرافسرسوئٹزرلینڈ بھیج دیا، سوئس حکام نے پاکستانیوں کے نام اوررقم کی تفصیل دینے پررضامندی ظاہرکردی تھی مگر طارق باجوہ نے سوئٹزرلینڈنہ جانے کا ملبہ دھرنے پر ڈال دیا تھا، جونیئرافسرمعاہدہ طے کرکے آئے توطارق باجوہ نے اسحاق ڈارکولکھا ابھی معاہدہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے سوئٹزرلینڈ جانے والی ٹیم کے سربراہ اشفاق احمد خان کوشوکازنوٹس بھی بھیجا تھا، نوٹس میں لکھا گیا آپ کس حیثیت سے سوئٹزرلینڈ گئے، معاملے کی انکوائری کرائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں