115

ن لیگ کے ساتھ اختلافات کلیئر ہو گئے ؟

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ نیا بلدیاتی نظام آئینی نہیں ہے، موجودہ حکومت بلدیاتی اداروں کوکام نہیں کرنے دے گی، ، قرض دینے والوں کی ڈکٹیشن پر چلنا پڑتا ہے ، چند سالوں میں ملکی قرض بڑھا ہے اور موجودہ حکومت کے مطابق سابق حکومتوں نے بہت قرض لیے لیکن کیا حکومت اس ایجنڈے پر نہیں آئی تھی کہ قرض نہیں لے گی ؟۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ ن لیگ کی لیڈرشپ سے اختلافات کلیئر نہیں ہوئے ہیں ، ن لیگ نے جو عہدے تقسیم کیے ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ہم ایک بند گلی کی طرف جارہے ہیں ، آئی ایم ایف خود مختار نہیں ہے بلکہ سیاسی ادارہ ہے، پچھلی حکومت میں آئی ایم ایف کی بہت ساری شرائط کو نہیں مانا گیا تھا ، اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، جس میں ہمارا قرضہ تیزی سے بڑھ رہاہے ۔ان کا کہناتھا کہ امن مذاکرات کی بھیک مانگی جاتی ہے ، کشیدگی کے دوارن پا ک فضائیہ کی جو تشہیر ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی ہے اور جنہوں نے بھارت کے دو جہاز گرائے ان کا نام تک نہیں لیا جاتا ۔ان کا کہناتھا کہ کاش عمران خان کو کوئی بتائے کہ قومی اتفاق سے مشکلات کا سامنا کیا جاتاہے ، پاکستان کےاطراف گھیراتنگ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کومتنازعہ حکومت نے بنایا،نیب اورعدالتوں کواپناکام کرنے دیں،ہمارے دشمن ملک کے اندرخلفشارچاہتے ہیں ، قوم کواصل صورتحال سے آگاہ کیاجائے۔

ان کا کہناتھا کہ موجودہ حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے، ملک کوشدید خطرات ہیں،حکومت اس پرسوچے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ مجھے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے 54ہزارووٹ ملے،صوبائی اورقومی اسمبلی میں 19،20 کافرق ہوتاہے، پارلیمنٹ میں نہیں ہوں،صورتحال کی ذمہ داری اپوزیشن اورحکومت کی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ روپے کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتوں کا مہنگائی پر بہت اثر ہوتاہے ۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ بھارت جو ایف اے ٹی ایف میں کردکار اداکر رہاہے کیا اسے کوئی روک رہاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں