79

پاکستان نے فیس بک سے اہم ترین مطالبہ کردیا

پاکستان نے فیس بک سے پولیو ویکسین کیخلاف مواد ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے اس سے مہم متاثر ہو رہی ہے جبکہ پولیو رضاکاروں کی زند گیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔حالیہ مہینوں میں ملک میں سوشل میڈیا پر پولیس ویکسین سے بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے جھوٹی خبریں اور جعلی ویڈیو سامنے آئی تھیں جس پر کئی ہزار ویوز اور شیئرز سامنے آئے تھے۔خبروں کے بعد ہزاروں والدین نے اپنے بچوں کے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا۔

روزنامہ پاکستان کے مطابق وزیر اعظم کے ترجمان برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کا کہنا ہے ’والدین کا فیس بک پروپیگنڈا کی وجہ سے پولیو ویکسین سے انکار ملک سے پولیو کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔انہوں نے فیس بک انتظامیہ سے درخواست کی کہ ’اس طرح کے پروپیگنڈا کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائے،خیال رہے گزشتہ ماہ پولیو کے خلاف مہم میں ملک بھر میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے تھے۔یاد رہے گزشتہ ماہ ہی پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے غیر تصدیق شدہ خبریں آئی تھیں کہ چکر اور پیٹ درد کی شکایت پر کئی بچوں کو ہسپتالوں میں لایا گیا ہے اور سیکڑوں بچوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی پہنچایا گیا تھا جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا تھا۔

ان افواہوں میں مزید ہیجان مساجد سے ہونیو الے اعلانات نے پیدا کردیا جس میں اپنے بچوں کو پولیو ویکسین نہ پلانے کی تاکید کی گئی تھی، اس اضطراب میں سوشل میڈیا پر ویکسینیشن کیخلاف وائرل ہونے والی ویڈیو سے مزید پیچیدگی پھیل گئی۔خیال رہے ملک میں رواں سال 9 پولیو کیس سامنے آئے جس میں لاہور اور بنوں میں 2، 2 کیس، اس کے علاوہ ہنگو، وزیرستان، باجوڑ، قبائل ضلع خیبر اور کراچی سے ایک ایک کیس سامنے آیا۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ دنیا میں پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا وہ 3 ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں