118

شاہد آفریدی نے انتہائی افسوسناک واقعہ سنا دیا

پاکستان کے مایہ ناز سابق آل راﺅنڈر شاہد خان آفریدی نے اپنی سوانح حیات ’گیم چینجر‘ میں جاوید میانداد اور وقار یونس سمیت متعدد اہم کرکٹرز کے بارے میں انکشافات کئے ہیں جس کے باعث کئی تنازعات نے جنم لے لیا ہے۔

شاہد آفریدی نے سابق ٹیسٹ کپتان عامر سہیل کے بارے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ اپنی کتاب میں قلم بلند کیا ہے جس کے مطابق انہوں نے میچ کے دوران ایک چھکا اور دو تین چوکے لگائے تو عامر سہیل نے میدان میں ہی ایسی بات کہہ دی کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

شاہد آفریدی نے لکھا ہے کہ ”بھارت کیخلاف سیریز 1-1 سے ڈرا ہوئی لیکن کرکٹ جیت گئی، بہت ہی بڑا لمحہ تھا یہ، کراﺅڈ نے بہت محبت کا اظہار کیا اور میڈیا بھی ہمارے چاروں طرف تھا اور اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ جنوبی ایشیاءمیں کرکٹ واپس آ گئی ہے، بہرحال کرکٹ کا ایک اور ’خدا‘ میری نظروں سے گر گیا تھا۔

میری ایک اور شاندار اننگز کے گرد افسوسناک کہانی نے لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ میں بھارت کیخلاف ٹورنٹو میں کھیلے گئے میچ میں اوپننگ کر رہا تھا اور میرے ساتھ اوپننگ کرنے والے سعید انور زیادہ دیر کریز پر ٹھہر نہ سکے جن کے آﺅٹ ہونے پر اس وقت کے کپتان عامر سہیل کریز پر آئے۔

میں نے پہلی گیند پر چھکا لگایا اور پھر 2 سے 3 چوکے مارے جس پر کراﺅڈ جنون میں مبتلا ہو گیا۔جیسے ہی بھارتی باﺅلر اپنے کپتان سے مشورہ کرنے گیا تو عامر سہیل میری جانب بڑھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں اور یہی سوچ کر میں بھی ان کی جانب چل پڑا۔ جیسے ہی عامر سہیل میرے پاس پہنچے، انہوں نے مجھے انتہائی گھٹیا نام سے پکارا اور کہا ’میں جانتا ہوں کہ تم نے وسیم اکرم کیساتھ مل کر یہ میچ فکس کیا ہے، مجھے پتہ ہے کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو‘۔

میرا دل ڈوب گیا، یہ 98-97 کی بات ہے۔ میں جوان تھا اور کیرئیر کا آغاز ہی کیا تھا، یہ سن کر میچ کے دوران کریز پر کھڑے ہی رو دیا، لیکن پھر جلد ہی سنبھل گیا اور کریز پر واپس گیا، ہمت اکٹھی کی اور میچ پر توجہ دینے کی کوشش کرنے لگا، بالآخر میں کامیاب ہوا اور سنچری بنا دی۔

بعد میں جب میں ڈریسنگ روم پہنچا تو عامر سہیل، جو مجھ سے پہلے آﺅٹ ہو گئے تھے، پلیئرز گیلری میں آئے اور کہا ’میری سائیڈ پر رہو اور میرا ساتھ دو، میں تمہیں صحیح لوگوں تک پہنچاﺅں گا، میں پاکستان کرکٹ کو چلانے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں، میں یہ سن کر مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا۔

بعد ازاں میں نے اس واقعے کے بارے میں وسیم اکرم اور انضمام الحق کو بتایا جنہوں نے مجھے یہ معاملہ اپنی حد تک رکھتے ہوئے حالات سے بہادری اور خاموشی سے نمٹنے کا مشورہ دیا کیونکہ آخر کار عامر سہیل کپتان تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ عامر سہیل عدم تحفظ کا شکار کیوں ہوئے، اگرچہ مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا، یہ سب شہرت کی وجہ سے تھا، یا پھر شہرت کی کمی کے باعث، خاص طور پر عامر سہیل کے معاملے میں تو ایسا ہی تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں