43

رانا تنویر کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ ماننے کے پابند نہیں ہیں: شاہ محمود قریشی

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ہم اس فیصلے کو ماننے کے پابند نہیں کہ رانا تنویر کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین بنایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) اس اچانک تبدیلی پر پارلیمان کو اعتماد میں لے گی؟ کیا خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر نامزد کرنے کی وجہ بتائے گی؟

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہباز شریف واپس آنے کا کہہ کر لندن گئے لیکن پھر آنے کا فیصلہ موخر کر دیا مگر نئی تاریخ کا اعلان کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کب تک اور کتنے عرصے تک لندن رہیں گے جس پر بہت سی قیادت آرائیاں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بنایا ہے، آپ کے علم میں ہے کہ لمبا عرصہ یہ مسئلہ کھٹائی میں رہا جس کے باعث قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی بھی نہیں بن پا رہی تھی۔ ن لیگ یہ کہہ رہی تھی کہ اگر آپ نے شہباز شریف کو یہ عہدہ نہ دیا تو ہم سٹینڈنگ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنیں گے جس کے باعث سپیکر پر بھی بے پناہ دباﺅ تھا اور میں اس سلسلے میں ان کیساتھ مذاکرات بھی کر رہا تھا کیونکہ قانون سازی کا کام نہیں ہو پا رہا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شہباز شریف کہتے تھے اپوزیشن کے اصرار پر میں چیئرمین پی اے سی بن رہا ہوں جبکہ پیپلز پارٹی کہتی تھی کہ ان کو اس لئے یہ عہدہ دیا جائے کیونکہ میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوا تھا کہ قائد حزب اختلاف کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی،اب رانا تنویر تو قائد حزب اختلاف نہیں ہیں، انہیں پی اے سی کا چیئرمین نامزد کر کے آپ نے خود ہی میثاق جمہوریت کی نفی کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت صرف وفاق پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے، سندھ پر کیوں نہیں ہوتا، یہاں آپ کی توقع ہے کہ قائد حزب اختلاف کو پی اے اسی کا چیئرمین ہونا چاہئے تو پھر سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کو وہاں کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین کیوں نہیں بناتے، جمہوریت کی روح سے تو انہیں بھی پی اے سی کا چیئرمین ہونا چاہئے، یہ تضاد ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ پچھلے 10سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور وہاں پی اے سی میں صرف پیپلز پارٹی کے ممبران ہی ہیں جبکہ حزب اختلاف کا ایک بھی ممبر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں آپ کتنی شد و مد سے لڑتے رہے اور ہم نے نظام کوچلانے کی خاطر ہار بھی مان لی لیکن جو آپ ہم سے توقع کرتے ہیں وہ خود پر لاگو کیوں نہیں کرتے، جب آپ نے فیصلے کو نہیں مانا اور میثاق جمہورت کی خود دھجیاں اڑا دیں تو ہم کس طرح رانا تنویر کو بطور پی اے سی چیئرمین قبول کرنے کے پابند ہو گئے اور کیوں کر لیں؟ بات تو ایک اصول پر تھی کہ پی اے سی کا چیئرمین قائد حزب اختلاف ہو گا لیکن اب رانا تنویر صاحب کیوں؟ ان کی جگہ تو کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ رانا تنویر کی نامزدگی پر ہم سے کوئی مشاورت ہی نہیں کی گئی، پیپلز پارٹی والے انہیں کیسے قبول کر لیں گے اور اگر کر بھی لیں گے تو پیپلز پارٹی کے اپنے اصول کہاں گئے۔ سوال یہ ہے کہ ان کی اپنی سیکرٹری انفارمیشن نفیسہ شاہ نے ایک پروگرام میں فرمایا کہ ہم سے اس مسئلے پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی، میرے علم میں نہیں ے کہ ایم این اے سے مشاورت ہوئی ہے یا نہیں لیکن نفیسہ نے برملا کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے اور آج بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے کیونکہ صحت کا معاملہ تو نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر صحت وجہ ہوتی تو پھر شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا عہدہ بھی چھوڑ دیتے لیکن اگر آپ نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ برقرار رکھنا ہے تو پھر پارلیمانی لیڈرشپ سے دستبردار کیوں ہو رہے ہیں ، کیا پارٹی کے اندر کوئی مسائل جنم لے رہے ہیں؟ ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری یہ درخواست ہے اور میں بحیثیت ڈپٹی پارلیمانی لیڈر آف پاکستان تحریک انصاف اور وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف یہ مطالبہ بھی کر رہا ہوں اور توقع بھی رکھتا ہوں کہ پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ان سب سوالات کا کوئی معقول جواب آئے گا اور اگر کوئی معقول جواب نہیں آئے گا تو مزید قیاس آرائیاں جنم لیں گی اور بات یہاں تک نہیں ٹھہرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں