74

سپریم کورٹ نے نوازشریف کی ضمانت کی توسیع کی درخواست مسترد کر دی

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے، یاد رہے کہ نوازشریف چھ ہفتوں کی ضمانت پر ہیں جو کہ 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد انہیں جیل جانا ہوگا۔خواجہ حارث نےکی جانب سےعدالت میں دو درخواستیں کی گئیں، ایک یہ کہ ہائیکورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے سے استثنیٰ دیا جائے اور نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے کیونکہ نوازشریف اگر سرینڈر کرتے ہیں تو ان کا علاج متاثر ہو گا اور اس سے ان کی صحت کو نقصان پہنچے گا تاہم عدالت میں ڈیڑھ گھنٹے تک سماعت جاری رہی اور سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مستر د کر دی ۔

سپریم کورٹ میں شریف میڈیکل سٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے ، رپورٹ دیکھ کر لگتاہے کہ نوازشریف کو ضمانت کا نقصان ہو گیا ، ضمانت کے دوران نوازشریف کی حالت مزید بگڑ گئی ۔خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کو وہی بیماری ہے جو کہ ان کے والد کو تھی ، دوران چیک اپ مزید بیماریوں کی تشخیص ہو ئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوازشریف کی صحت خراب ہونا آپ کے دلائل کا حصہ ہے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےنوازشریف کی ضمانت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی جس دوران خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ 8 ہفتے بعد سرنڈر کریں گے ، نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس جمع کروائیں تھیں ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ مستقبل کے بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتے ، نوازشریف کی بیماری کا ڈاکٹرز ہی بہتربتا سکتے ہیں۔

ِ چیف جسٹس نے کہا آپ نظرثانی درخواست پر دلائل دیں، پہلے درخواست دیکھتے ہیں، آرڈر پر نظرثانی بنتی بھی ہے یا نہیں؟۔خواجہ حارث نے کہا کہ فیصلہ کہتاہے گرفتاری کے بغیرضمانت توسیع کی درخواست نہیں دی جاسکتی، فیصلہ زبانی سنایا گیا،تبدیلی فریقین کوسنے بغیرنہیں ہو سکتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دستخط سے قبل عدالت تحریری فیصلے کوبھی بدل سکتی ہے،آج آپ کے لیے تمام راستے کھلے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیت ہوئے کہا کہ 6 ہفتوں کے بعد آپ کے لیے تمام آپشنزموجود ہیں،خواجہ حارث نے کہاکہ فیصلے کے مطابق ہائیکورٹ رجوع سے پہلے گرفتاری لازمی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پورا پیکج ہے جو آپ کو ملا ہے۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کیلئے انجیو گرافی کی ضرورت ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انجیو گرافی کیلئے ایک گھنٹہ کافی ہوتا ہے ہم نے آپ کو چھ ہفتے دیئے ۔

خواجہ حارث نے کہا کہ دوران ضمانت ہائپر ٹینش اور شوگر کا علاج ہواہے ، نوازشریف کو جو علاج درکار ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں ہے ، نوازشریف کی بیماریوں میں مزید پیچیدگیاں آتی جارہی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ بیرون ملک ہی علاج ممکن ہونے کے کیا شواہد ہیں ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ڈاکٹرز نے کہاہے کہ بیرون ملک ہی علاج ممکن ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ڈاکٹرز نے کہا کہ نوازشریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے ، ضمانت دینے کی وجہ انجیو گرافی ہونا تھی ، عدالت نے سمجھا کہ نوازشریف کی زندگی خطرے میں ہے ،آج آپ کہتے ہیں کہ پاکستان میں علاج ہی ممکن نہیں ہے ، ڈاکٹرز نے یقین سے نہیں کہا کہ ملک میں علاج ممکن نہیں ہے ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان میں علاج ممکن نہیں ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز کی بات پر یقین کیسے کریں ؟، دل کا بہترین علاج اور ٹیکنالوجی پاکستان میں موجود ہے ۔خواجہ حارث نے کہا کہ غیر ملکی ڈاکٹرز نے بیرون ملک علاج کی تجویز دی تھی، نوازشریف کے دل کی ایم آر آئی پاکستان میں ممکن نہیں ہے ۔

سپریم کورٹ میں شریف میڈیکل سٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے ، رپورٹ دیکھ کر لگتاہے کہ نوازشریف کو ضمانت کا نقصان ہو گیا ، ضمانت کے دوران نوازشریف کی حالت مزید بگڑ گئی ۔خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کو وہی بیماری ہے جو کہ ان کے والد کو تھی ، دوران چیک اپ مزید بیماریوں کی تشخیص ہو ئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوازشریف کی صحت خراب ہونا آپ کے دلائل کا حصہ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں