56

خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ ن کی قیادت سے سخت ناراض

پاکستان مسلم لیگ پہلے ہی دھڑے بندی کا شکار تھی جس کے بعد پارٹی کے اہم رہنماؤں نے بھی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کی خاموشی سے پارٹی کے اندر مایوسی اور بے چینی کو مزید ہوا ملی ہے۔ نامکمل تنظیمی ڈھانچہ، شہباز شریف کا دورہ لندن، نواز شریف اور مریم نواز کی عدالتی ریلیف کی صورت میں متوقع لندن روانگی، قومی اور اہم ایشوز کے بارے میں پالیسی سے لاعلمی ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے پارٹی کے اندر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کے اندر پارٹی ہارڈ لائنرز اور مصلحت پسند دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ہارڈ لائنرز کو نوازشریف، مریم نواز کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے ، جبکہ دوسرا گروپ شہباز شریف کا حامی ہے۔

تاہم دونوں گروپ نوازشریف، شہباز شریف کے ارداوں سے متعلق مکمل طور پر لاعلم ہیں اور ان کو ہرگز یہ علم نہیں ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کیا کرنا چاہ رہے ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کو یہاں تک علم نہیں ہے کہ آیا ان کی مقتدر حلقوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی وطن واپسی تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ شہباز شریف 7 مئی کی بجائے اب 14 مئی کو پاکستان پہنچیں گے۔ شہباز شریف کی عدم موجودگی میں پارلیمانی پارٹی اجلاسوں میں قیادت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج پھر ہو گا، جس میں ارکان اسمبلی کے مسلسل اصرار کے بعد پارلیمانی لیڈر کے تقرر کا اعلان کیا جائے گا۔

نیب کی حراست کے دوران پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی اجلاس میں آنے والے خواجہ سعد رفیق نے پارلیمانی میٹنگ میں جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ وہ مسلسل سوال اُٹھا رہے ہیں کہ لیڈر شپ کی طرف سے مسلسل خاموشی کیوں ہے، خواجہ سعد رفیق پارٹی لیڈر شپ کی طرف سے خاموشی پر سخت نالاں ہیں، کیونکہ پارٹی کسی طور ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔ جبکہ سینئر رہنما خواجہ آصف نے پارلیمانی پارٹی کو یقین دلایا ہے کہ لیڈر شپ نے موقف نہیں بدلا خاموشی کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ نواز شریف پیچھے ہٹ گئے یا کسی مصلحت کا شکار ہیں، نواز شریف اگر خاموش ہیں تو اس کی وجہ ہے۔

اور وہ وقت آنے پر خاموشی توڑ بھی دیں گے۔ دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجلاسوں میں نواز شریف کے غیر منتخب مشیر ایک مرتبہ پھر نشانہ پر آگئے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ رائے پختہ ہوتی جا رہی ہے کہ ہمیں عید اور بجٹ کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانی چاہئیے۔ خاموشی یا سمجھوتہ فی الوقت مسئلہ کا حل نہیں ، اگر ہم مشکل سے نکل کر اچھے وقت میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہوگی، جیسا کہ جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کر رہی ہے، رپورٹ کے مطابق پارٹی قائد نواز شریف نے اپنی جمع تفریق ضرور کر رکھی ہے اگرچہ وہ اس حوالے سے کوئی بات شیئر نہیں کرتے تاہم وہ مناسب موقع اور وقت پر پارٹی کو اعتماد میں لے کر اپنی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

انتہائی قابل اعتماد ذرائع نے بتایا نواز شریف سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر حلف نہ اُٹھانا بہترین موقع تھا جسے ہم ضائع کر چکے ہیں، اب اس طرح کا کوئی دوسرا موقع جب تک پیدا نہیں ہوتا حکومت مخالف تحریک نہیں چلانی چاہئیے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف ستمبر میں مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے کے لیے تیار ہو جائیں گے، جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے فضل الرحمان کو تحریک کے لئے زرداری کو راضی کرنے کی شرط رکھی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ زرداری کو منا لیں تو ن لیگ بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔

مسلم لیگ ن تحریک سے قبل تنظیمی ڈھانچہ بھی مکمل کرنا چاہتی ہے جس کے لئے شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال متحرک ہیں، جبکہ اس سلسلہ میں خواجہ آصف کی نواز شریف سے جلد ملاقات متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں