34

لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے سے متعلق معاملے میں نیا موڑآ گیا

لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 45 افراد میں اس وائرس کی نشاندہی ہو ئی ہے تاہم محکمہ صحت کی کارروائی کے بعد یہ انکشاف ہواہے کہ ایڈز پھیلنے کا مبینہ ذمہ دار خود اس مرض کا شکار ہو گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں ایڈ ز پھیلنے کی خبریں عام ہوئیں تو محکمہ صحت حرکت میں آیا اور کارروائی کرتے ہوئے 20 لیبارٹریز کو سیل کر دیا گیا جبکہ ان میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی سکریننگ بھی کی گئی جس میں ڈاکٹر مظفر نامی شخص میں ایڈز کے وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا اور آج انہیں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہیں تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیاہے۔ استعمال شدہ سرنج لگانے والے ملزم نے ہیلتھ کمیشن کی رپورٹ ہی مسترد کر دی ہے اور اسے جھوٹاقرار دیدیا ہے تاہم ابھی مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جارہاہے ۔مقدمے میں کہا گیاہے کہ تمام بچوں کی سکریننگ بھی کروائی گئی ، ڈاکٹر مظفر کی وجہ سے ہی یہ مرض منتقل ہو اہے ۔

ملزم ڈاکٹر مظفر کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے کوئی انفیکشن نہیں پھیلا ہے ، مجھے اپنے مرض کا بھی ٹیسٹ کے بعد ہی پتا چلاہے ، اگر مجھے پتا ہوتا کہ مجھے بھی ایڈز ہے تو میں اس کا اعلاج کرواتا نہ لوگوں کا علاج کرتا ، مجھ میں اس کی کوئی نشانی ظاہر نہیں ہوئی تھی لیکن جب محکمہ کی جانب سے ٹیسٹ کیا گیا تو اچانک رپورٹ مثبت آ گئی ، میں خود پریشان ہوں کہ میرے ٹیسٹ کس طرح مثبت آئے ، یہ جھوٹا کیس ہے ، کمیشن والے اپنے آپ کو بچانے کیلئے میرے اوپر ڈال رہے ہیں ۔اس کا کہناتھا کہ لاڑکانہ میں 45 کیسز سامنے آئے ہیں لیکن ان میں سارے تو میرے پاس علاج کروانے کیلئے نہیں آتے تھے جبکہ ان میں کئی لوگوں کا تعلق دو دراز کے علاقوں سے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں