103

لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے سے متعلق معاملے میں نیا موڑآ گیا

لاڑکانہ میں ایڈز پھیلنے کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 45 افراد میں اس وائرس کی نشاندہی ہو ئی ہے تاہم محکمہ صحت کی کارروائی کے بعد یہ انکشاف ہواہے کہ ایڈز پھیلنے کا مبینہ ذمہ دار خود اس مرض کا شکار ہو گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں ایڈ ز پھیلنے کی خبریں عام ہوئیں تو محکمہ صحت حرکت میں آیا اور کارروائی کرتے ہوئے 20 لیبارٹریز کو سیل کر دیا گیا جبکہ ان میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی سکریننگ بھی کی گئی جس میں ڈاکٹر مظفر نامی شخص میں ایڈز کے وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا اور آج انہیں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہیں تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیاہے۔ استعمال شدہ سرنج لگانے والے ملزم نے ہیلتھ کمیشن کی رپورٹ ہی مسترد کر دی ہے اور اسے جھوٹاقرار دیدیا ہے تاہم ابھی مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جارہاہے ۔مقدمے میں کہا گیاہے کہ تمام بچوں کی سکریننگ بھی کروائی گئی ، ڈاکٹر مظفر کی وجہ سے ہی یہ مرض منتقل ہو اہے ۔

ملزم ڈاکٹر مظفر کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے کوئی انفیکشن نہیں پھیلا ہے ، مجھے اپنے مرض کا بھی ٹیسٹ کے بعد ہی پتا چلاہے ، اگر مجھے پتا ہوتا کہ مجھے بھی ایڈز ہے تو میں اس کا اعلاج کرواتا نہ لوگوں کا علاج کرتا ، مجھ میں اس کی کوئی نشانی ظاہر نہیں ہوئی تھی لیکن جب محکمہ کی جانب سے ٹیسٹ کیا گیا تو اچانک رپورٹ مثبت آ گئی ، میں خود پریشان ہوں کہ میرے ٹیسٹ کس طرح مثبت آئے ، یہ جھوٹا کیس ہے ، کمیشن والے اپنے آپ کو بچانے کیلئے میرے اوپر ڈال رہے ہیں ۔اس کا کہناتھا کہ لاڑکانہ میں 45 کیسز سامنے آئے ہیں لیکن ان میں سارے تو میرے پاس علاج کروانے کیلئے نہیں آتے تھے جبکہ ان میں کئی لوگوں کا تعلق دو دراز کے علاقوں سے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں