85

مولانا فضل الرحمن کا حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام آمریت کی علامت ہو گی۔صدارتی نظام پاکستان کے نظام کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا۔

موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے،عمران خان مستعفیٰ ہو جائیں ،ہم اس حکومت کو نہیں مانتے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ صدارتی نظام آمریت کی علامت ہے ،کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کریگی ، موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے،آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہماری اسلامی شناخت کوختم کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے، صدارتی نظام آمریت کی علامت ہے، جیسی کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک میں غیر سنجیدگی اور بے حیائی پیدا کی۔

ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی جا معات کو قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔ ہم نے ریاست کا بے پناہ احترام کیا مگر ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (گلالئی) کی سربراہ عائشہ گلالئی نے رجسٹرڈ چھوٹی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ‘پاکستان پیٹریاٹ ڈیموکریٹک الائنس’ نامی اتحاد کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹی جماعتوں کے اجلاس میں مجھے اتحاد کی سربراہی سونپی گئی ۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عائشہ گلالئی نے کہا کہ اے پی سی میں 2 سو کے قریب مختلف چھوٹی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چیئرپرسن کی حیثیت سے سیاسی اتحاد کو لیڈ کررہی ہوں ۔ رمضان المبارک کے بعد ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں