128

حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ بند کر دئے

حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دی جانے والی اسکالر شپ سمیت کئی ترقیاتی منصوبے بند کر دئے۔ تفصیلات کے مطابق فنڈز کی قلت موجودہ حکومت کے لیے رکاوٹ بن گئی ہے۔ تبدیلی سرکار نے نئے بجٹ سے پہلے متعدد وفاقی ترقیاتی منصوبے بند کر دیئے ہیں۔ ثانوی سے اعلیٰ تعلیم تک 10 ارب روپے کے نیشنل انڈومنٹ اسکالر شپ پروگرام سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملکی خزانوں میں فنڈز کی کمی کے بُرے اثرات اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت نے کئی پرانے ترقیاتی منصوبوں کو بریک لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 13 ارب روپے مالیت کے منصوبوں میں ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کا اسکالر شپس پروگرام بھی شامل ہے جسے 5 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد بند کردیا گیا۔

مالی مشکلات کے شکار طلباء کو مفت ٹیوشن فیس، کتابیں، وظیفہ، ٹرانپسورٹ اور ہاسٹل سمیت کئی سہولیات اب نہیں ملیں گی، جبکہ لیگی دور میں متعارف کروائے گئے کئی دیگر منصوبے بھی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2025ءء، انرجی ونگ کی استعداد کار بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پلاننگ یونٹ، موسمیاتی تبدیلی سیکشن اور پاکستان اربن پلاننگ اینڈ پالیسی سینٹر کے قیام کا منصوبہ بھی بند کیا جارہا ہے۔ انسپکٹر جنرل ڈیولپمنٹ پراجیکٹ بلوچستان، تحقیق، فزیبلٹی اسٹیڈیز اور ورکشاپس کے منصوبے کے ساتھ احسن اقبال کے پیش کردہ وژن 2025ء کے مختلف منصوبے بھی بند کئے جائیں گے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق سی پیک سے متعلق بعض منصوبوں کیلئے مختص 27 ارب کے فنڈز میں سے 24 ارب روپے بھی ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کو منتقل کر دیئے گئے، موجودہ مالی سال کے 675 ارب کے نظرثانی شدہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سے اب تک 525 ارب جاری ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت سی ایس ایس امتحان بھی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں