123

حکومت نے سی ایس ایس امتحان ختم کرنے پر غور شروع کر دیا

حکومت نے سی ایس ایس امتحانات ختم کرنے پر غور شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق خصوصی بیوروکریسی کے تصور کو متعارف کروانے کے ذریعے سی ایس ایس کے موجودہ امتحان کے نظام کو تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ نئے امتحان کا نظام منظور ہونے کی صورت مین اس میں چار مراحل شامل ہوں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کی نفی کرتے ہوئے اسے محض حکومتی دعویٰ قرار دیا۔

گذشتہ برس ستمبر میں ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی جس کے تحت سی ایس ایس کے امتحانی طریقہ کار کو بدلنے اور اصلاحات لانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے چھ ماہ کے بعد گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایک میٹنگ میں اصلاحات پیش کیں جس میں خصوصی بیوروکریسی کے تصور کو متعارف کروانے کے ذریعے سی ایس ایس کی موجودہ امتحان کے نظام کو تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کی نفی کرتے ہوئے اسی محض حکو متی دعویٰ قرار دیا ۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت اب تک قانون سازی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ سی ایس ایس کے امتحانی طریقہ کار کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اگر حکومت تبدیلی چاہتی ہے تو ایسا نظام متعارف کروایا جائے کہ مخصوص اہلیت کے حامل اُمیدوار متعلقہ سلسلے میں شامل ہو جائیں۔
طلباء نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی ایس ایس کے امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی سے مزید آسانی ہو جائے گی لیکن حکومت اس تبدیلی کو محض دعوں وعدوں تک نہ رکھے بلکہ اسے پروڈکشن ٹیم کے ساتھ عملی جامہ بھی پہنائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس امتحان کے لیے ترمیمی قانون کے احکامات جاری کیے تھے ۔ یاد رہے کہ تین سال قبل 30 جولائی 2016ء کو سی ایس ایس کے لیے امتحان دینے والے اُمیدواروں کی بالائی حد میں دو سال کی توسیع کی گئی تھی جس کے تحت تیس سال کی عمر کے اُمیدواروں کو بھی سی ایس ایس کے امتحانات دینے کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں سی ایس ایس امتحانات کے اسٹرکچر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں