40

جہانگیرترین ایک مرتبہ پھر سرگرم لیکن

تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی اس کے اندرونی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں ، پارٹی رہنما ﺅں نے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں اور تمام گروپ ایک دوسرے سے زیادہ مضبوط ہونے کے لئے رہنماﺅں اور کارکنوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہے اس تمام صورتحال سے چیئرمین تحر یک انصاف عمران خان بخوبی آگاہ ہیں مگر وہ بھی بے بس نظر آ رہے ہیں,جہانگیرترین نے سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے وہ پارلیمنٹیرینز کے علاوہ دیگر پارٹی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں ان ملاقاتوں میں جہانگیر ترین ذومعنی اور مشکل سوال کرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ مرکز اور پنجاب میں کیا ہورہا ہے کیسی حکومتیں چل رہی ہیں وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ اگر آپ گورنر یا وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے تو کیا کرتے اور کیا ہونا چاہئے سب سے اچھا کام کون کر رہا ہے سب سے بری کارکردگی کس کی ہے۔یہ دعویٰ روزنامہ دنیا نے کیا ہے ۔

اخبار کے مطابق عمران خان متعدد با رایک دوسرے سے ناراض پارٹی رہنماﺅں سے شکوہ کر چکے ہیں کہ میں پارٹی کے اندر محاذ سنبھالوں یا پارٹی کے باہر دیگر پارٹیوں سے نمٹوں۔ عمران خان کے سامنے سب انہیں یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ کسی گروپ کا حصہ نہیں بنیں گے مگر پارٹی میں اختلافات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین اپنے اپنے گروپ مضبوط کرنے میں مسلسل لگے ہوئے ہیں شاہ محمود قریشی گروپ سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب چودھری سرور نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے گورنر ہاﺅس میں جمعرات کے روز پارٹی رہنما ﺅں کے اعزاز میں عشائیہ دیا تو اس میں توقع سے بہت کم پارٹی رہنما شریک ہوئے اس عشائیہ میں جہانگیر ترین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر وہ دونوں نہ صرف عشائیہ میں شریک نہ ہوئے بلکہ جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے دیگر افراد اس عشائیہ میں شرکت کرنے والوں کے نام معلوم کر تے رہے۔دوسری طرف چودھری پرویز الٰہی ایک عرصہ سے چودھری سرور سے ناراض ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں