90

کوئی ماں کالعل ایسا پیدانہیں ہواجو فیصلہ ادھرادھرکرواسکے

عدالتوں میں زیرالتوا ٹرائل مقدمات کی بار بار منتقلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کوئی ماں کالعل ایسا پیدانہیں ہواجو فیصلہ ادھرادھرکرواسکے ،صرف دوفیصد وکلا نے پورے سسٹم کومفلوج کررکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ میں عدالتوں میں زیرٹرائل مقدمات کی باربار منتقلی کیخلاف درخواستوں پرسماعت ہوئی،جسٹس سیدمظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے درخواستوں پرسماعت کی۔فل بنچ میں پراسیکیوٹر جنرل سید احتشام قادر شاہ نے عدالتی معاونت پر دلائل دیے،ایڈووکیٹ اعظم نذیرتارڑ اور عثمان نسیم ایڈووکیٹ عدالتی معاون کے طور پر پیش ہوئے،ملزم نوید حسین کی جانب سے سید فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،عدالتی معاونین نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 526 اور 528 پر معاونت کی۔

پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادرنے کہا کہ سیشن جج کے پاس ٹرائل کو منتقل کرنے کا اختیار نہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ اسی قانونی نقطے کی تشریح کیلئے یہ بنچ بنایا گیا ہے،عدالت نے کہا کہ بغیر بیان حلفی ٹرائل کیس کی منتقلی سسٹم کی خرابی کا باعث ہیں،پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ججز کو بغیر وجہ کیسز کی مزید تاریخ نہیں دینی چاہیں، عدالت نے کہا کہ تاخیری حربوں کے حوالے سے عدالتوں کو یہ معاملہ دیکھنا چاہتے،عدالت نے کہاکہ ٹرائل کورٹس کو بھی اعلیٰ عدلیہ کو تقلید کرنی چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کوئی ماں کالعل ایسا پیدانہیں ہواجو فیصلہ ادھرادھرکرواسکے ۔جسٹس سید مظاہر علی اکبرنے کہا کہ صرف دوفیصد وکلا نے پورے سسٹم کومفلوج کررکھا ہے،وکلا کی بہتر تربیت نہیں ہو رہی جڑانوالہ میں جج کوکرسی مارکر زخمی کردیا،کسی کو عدالتوں کوہائی جیک نہیں کرنے دیں گے،جسٹس سیدمظاہرعلی اکبرنقوی نے مزید کہا کہ روس کی تباہی کی بڑی وجہ اہم عہدوں پرنااہل افرادکوتعینات کیاگیا، سسٹم تباہی کے دہانے پرپہنچ چکاہے،جوڈیشل سسٹم ختم کردیں توملک جنگل بن جاتاہے، ہم صرف اللہ کے رضا کیلئے کام کرتے ہیں۔فل بنچ نے پیر کے روز مدعی کے وکلا کو مزید بحث کیلئے طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں