86

صرف 1 فیصد ٹیکس دے کر کالا دھن سفید کروائیں

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا ترمیمی مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے مطابق 30 جون تک پراپرٹی ڈکلیئر کرنے والوں پر ایک فیصد، 30 ستمبر تک 2 فیصد اور 31 دسمبر تک پراپرٹی ڈکلیئر کرنے والوں کے لیے 4 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے جب کہ ان ڈکلیئر سیلز ظاہر کرنے پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

جیونیوز کے مطابق ترمیمی مسودے کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی ہدایت پر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے، ٹیکس ریٹس میں کمی کی گئی ہے اور سکیم کو 31 دسمبر 2019 تک جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔مسودے کے مطابق 30 جون 2019 تک اثاثے ظاہر کرنے والوں پر پانچ فیصد، 30 ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے 10 فیصد اور 31 دسمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے 20 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ایمنسٹی سکیم میں غیر ملکی رقم واپس لانے یا پاکستان بناؤ سرٹیفیکیت میں سرمایہ کاری کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کروانے کیلئے پرامید ہے تاہم تحریک انصاف حکومت کی اس پہلی سکیم کا مجموعی طورپر اس کا انحصار آئی ایم ایف پر ہے ، حکومت اس سکیم کے مندرجات کو آئی ایم ایف کی ٹیم کیساتھ بھی اٹھائے گی جو آئندہ ماہ اسلام آباد پہنچے گی جبکہ اس سکیم پر ایف بی آر مزید کام کررہاہے ، اس مجوزہ سکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکاؤنٹس پر بھی ہو گا۔

بے نامی اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن کا اطلاق یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک ہو گا جبکہ سال 2000کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والوں پر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی پابندی ہو گی۔

خیال رہے کہ 2 اپریل کو سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹیکس ایمنسی سکیم لانے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ وزارت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اب موجودہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ان معاملات کو آگے بڑھارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں