131

اصغر خان کیس کے مرکزی کردار یونس حبیب کراچی میں انتقال کرگئے

سابق بینکر اور 1996 کے اصغر خان کیس کے مرکزی کردار یونس حبیب کراچی میں انتقال کرگئے ہیں. 78 سالہ یونس حبیب کا علاج کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں جاری تھا جہاں وہ انتقال کرگئے. ان کی نماز جنازہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کی مسجد بیت اسلام میں ادا کی جائے گی‘یونس حبیب نے 1963 میں اپنے کیرئیر کا آغاز حبیب بینک لمیٹڈ میں کلرک کی حیثیت سے کیا تھا اور 1991 میں بینک کے صوبائی سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے.

1991 میں انہیں، سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی کی مدد سے مہران بینک کے قیام کی منظور دی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے بینک کے چیف آپریٹنگ آفیسر کا عہدہ سنبھالا تھا.

1996 میں تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان نے ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پر الزام لگایا گیا تھا کہ ادارے نے 1990 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہ بینظیر بھٹو کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام کے لیے متعدد سیاست دانوں کو مالی فوائد فراہم کیے تھے تاکہ پی پی پی کو اقتدار میں آنے سے روکا جاسکے.

مذکورہ پٹیشن میں یونس حبیب پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سیاست دونوں کو مالی فوائد دینے کے لیے کروڑوں روپے فراہم کیے، دیگر ملزمان میں سابق صدر غلام اسحاق خان اور سابق آرمی چیف اسلم بیگ کا نام بھی شامل تھا.مذکورہ پٹیشن میں یونس حبیب پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سیاست دونوں کو مالی فوائد دینے کے لیے کروڑوں روپے فراہم کیے، دیگر ملزمان میں سابق صدر غلام اسحاق خان اور سابق آرمی چیف اسلم بیگ کا نام بھی شامل تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں