73

معذور افراد کے حقوق کا کیس:سپریم کورٹ سخت برہمی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے سارا کام ہی جعلی ہے،کیوں نہ کیس نیب کو بھجوا دیں. تفصیلات کے مطابق، جمعرات کو جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے معذور افرادکے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی.

درخواست گزار نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ من پسندافرادکو نوازنے کے لئے معذوروں کے کوٹے پربھرتی کیاجاتاہے،اونچا سننے والے کو بھی معذور قرار دےکر بھرتی کیا جاتا ہے.

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھی معذورکوٹہ پربھرتیاں ہوئیں، ایک شخص کوٹانگ کمزورہونے پرمعذورکہہ کربھرتی کیا گیا،ایک شخص کی نظرمنفی 2تھی اسے بھی معذور کوٹے پر بھرتی کیا گیا.

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کے پی کے میں کئی افراد کو معذور کوٹے پر بھرتی کیا گیا، حق دار شکایت کریں تو دربدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورکیا جاتا ہے. جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے سارا کام ہی جعلی ہے،معذور کوٹے پر میرٹ کیخلاف بھرتیاں سنگین جرم ہے، تاثر مل رہا ہے بھرتیاں شفاف نہیں ہوئیں، کیوں نہ کیس نیب کو بھجوا دیا جائے.

سرکاری وکلانے بھرتیوں کیخلاف فوجداری کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی جائے تو دادرسی کریں گے. درخواست گزارنے کہا کہ کسی کی بھرتی چیلنج کریں تو دھمکیاں ملتی ہیں جس پرجسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چاول کے ایک دانے سے دیگ کا علم ہوجاتا ہے،سرکاری افسران کو قانون کا کوئی خوف نہیں، حکومت سمجھتی ہے معذوروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں.

سپریم کورٹ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا. عدالت نے ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے معذوز افراد کوخلاف قانون بھرتیوں کی نشاندہی کی ہدایت کردی. بعدازاں سپریم کورٹ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت 20 جون تک ملتوی کردی.

اپنا تبصرہ بھیجیں