90

حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنائے جانے کے بعد بھی حکومتی پریشانی برقرار

اسد عمر کے وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے کے بعد حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیے جانے کے باوجود حکومت کی پریشانی ختم نہ ہو سکی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے لیے چالیس دن میں عوام دوست بجٹ بنانا ایک چیلنج بن گیا۔ جبکہ عوام اور تاجروں نے نئی تبدیلی سے اپنی اُمیدیں وابستہ کر لی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسد عمر کے استعفے کے بعد حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا تو حکومت کے اس فیصلے پر تاجر برادری اور صنعتکار بھی خوش نظر آئے۔ تاجروں اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں اُمید ہے کہ حفیظ شیخ تاجر اور عوام دوست بجٹ بنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد عمر کے آٹھ ماہ کے دور میں نہ تو برآمدات میں اضافہ ہوا اور نہ ہی کاروباری برادری کو کوئی ریلیف ملا جبکہ اُلٹا مہنگائی میں اضافہ ہوا جس نے عوام کی چیخیں نکال دیں۔

واضح رہے کہ اسد عمر کے وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وزارت خزانہ کا مشیر تعینات کیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ عبد الحفیظ کا یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر ہو گا۔ دو روز قبل موصول ہونے والی خبروں کے مطابق وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو پہلے دن سے آئی ایم ایف کا اعتماد حاصل تھا۔ حفیظ شیخ گذشتہ ایک ماہ سے خاموشی سے وزیرخزانہ کی ذمہ داری بھی سرانجام دے رہے تھے، سابق وزیرخزانہ اسد عمر کے دورہ امریکہ میں آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ معاملات بگڑ گئے تھے۔

سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے جب امریکہ کا دورہ کیا تو انہوں نے اپنی کچھ باتوں پر کنٹرول نہیں کیا،آئی ایم ایف نے اسد عمر سے ملنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اسد عمر اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس آئے تو انہوں نے کوئی میڈیا بریفنگ بھی نہیں دی تھی۔ جس کے بعد اب خیال کیا گیا کہ اسد عمر کو گھر بھیجنے میں آئی ایم ایف کا بھی کردار ہے۔ دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ نے چارج سنبھالنے کے فوری بعد ایک منٹ ضائع کیے بغیر عالمی مالیاتی اداروں سے رابطے شروع کردیے تاکہ ملک کے معاشی مسائل کا حل نکالا جا سکے تاہم اس سب کے باوجود عوام دوست بجٹ بنانا ایک چیلنج ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں