62

سپریم کورٹ،موبائل فون کارڈٹیکس کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈٹیکس کا فیصلہ محفوظ کرلیاجو آدھے گھنٹے بعد سنایا جائے گا،سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے فون کارڈز پر اضافی ٹیکس کی وصولی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کیا ماضی کی ایسی عدالتی مثال موجود ہے جس میں ٹیکس مقدمے پر آرٹیکل 184 کی شق تین کا استعمال ہوا ہو؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اس مقدمے میں ایسے شہریوں سے ٹیکس لیا جا رہا تھا جو انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے۔تیرہ لاکھ شہری ٹیکس دہندہ ہیں جبکہ دو کروڑ سے زائد شہریوں سے موبائل ٹیکس لیا جا رہا ہے۔

نان فائلر شہریوں سے موبائل ٹیکس لینے کے خلاف مقدمہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ انکم ٹیکس کا قانون بنانے والا غیر ملکی تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم آپ کی دلیل سے متفق نہیں ہوتے تو کیا چیپٹر 12 ختم ہو جائے گا؟اٹارنی جنرل نے کہا اگر چیپٹر 12 ختم ہو جاتا ہے تو ٹیکس کی مد میں حکومتی آمدن 40 فیصد کم ہو جائے گی۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب موبائل فون کمپنیاں اور صارفین سونے کا انڈہ دینے والی مرغیاں ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا جو شخص سیب بھی خریدتا ہے وہ بھی ٹیکس دیتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا سپریم کورٹ کیا ہے؟ کیا اگر کوئی میرے چیمبرز میں آ کر میرے نوٹس میں کوئی چیز لائے تو کیا میں سپریم کورٹ ہوں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا جب آپ عدالت میں ہیں تو آپ سپریم کورٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا عدالت میں بنچ کا ہونا ضروری ہے یا ایک جج کا؟

چیف جسٹس پاکستان نے بتایا تین مئی 2018 کو موبائل ٹیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں آیا۔ یہ معاملہ انسانی حقوق سیل کے ذریعے بنچ کے نوٹس میں لایا گیا۔اس معاملے کے جائزے کے بعد نوٹسز جاری کیے گئے۔عدالت نے معاملے کا جائزہ لیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق میں آتاہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے نوٹسز جاری کیے اور اس حوالے سے وجوہات بھی بیان کی تھیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ وہ وجوہات پڑھ لیتے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا ہمارے سامنے وہ کیس نہیں ہے۔اٹارنی جنرل پاکستان نے اس کیس میں اپنے دلائل مکمل کرلیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے بھی کیس میں دلائل دیے۔سپریم کورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر موبائل فون کارڈٹیکس کا فیصلہ محفوظ کرلیاجو آدھے گھنٹے بعد سنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں