52

قوم مطمئن رہے تمام کرپٹ لوگوں کااکیلے ہی مقابلہ کروں گا،عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 2 جماعتوں کے سربراہوں نے ملک لوٹااورپیسہ ملک سے باہرلیکر گئے، اب ملک کولوٹنے والے اکٹھے ہوگئے ہیں، قوم مطمئن رہے تمام کرپٹ لوگوں کااکیلے ہی مقابلہ کروں گا، میرااقتدارمیں آنے کامقصدصرف ان کرپٹ عناصرکوشکست دیناتھا،انہوں نے کہا کہ یہ سب چاہتے ہیں عمران خان پرزورڈال کراین آراولیاجائے،لیکن ہم کسی صورت ڈاکوؤں اور چوروں کواین آراونہیں دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے وانا میں جلسہ عام سے خطاب میںکرتے ہوئے کہا کہ میں سیاست میں فیکٹریاں محلات بنانے نہیں ان لوگوں کا احتساب کرنے آیاتھا، پی پی اورن لیگ نے 10سال میں ملک پر 24ہزارارب کاقرض چڑھایا۔2 جماعتوں نے ملک کو قرضے کی دلدل میں دھکیلا،منی لانڈرنگ سے معیشت کونقصان اورروپے کی قدرکم ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2018 تک ملکی قرضہ 6 ہزار ارب سے بڑھ30 ہزار ارب ہو گیا ڈالر باہر گئے تو روپے کی قدرگرگئی جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس کی مدمیں ساڑھے 4 ہزارارب روپے اکٹھے ہوتے ہیں،گزشتہ 10 برسوں میں ملکی قرضوں میں ریکارڈاضافہ ہوا،عوام پوچھتے ہیں کہ قرضے کاپیسہ کہاں گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹوکوصاحبہ کہہ دیا،عمران خان نے کہا کہ میں بلاول بھٹوصاحبہ کی طرح کسی پرچی پرنہیں آیا،انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو سیاست کا 12 واں کھلاڑی قراردیدیا،انہوں نے کہا کہ مولانافضل الرحمان کی بڑی سستی قیمت ہے،ایک کشمیرکمیٹی کی چیئرمین شپ اورڈیزل کاپرمٹ،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے اکثرسیاستدانوں کوپختوانخوااورقبائلی علاقوں میں فرق نہیں پتہ،قبائلی علاقے کے رہن سہن اورروایات پرکتاب لکھی ہے،مجھے قبائلی عوام کے مسائل کامکمل ادراک ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی لوگوں نے کشمیرکیلئے بھی جہادمیں حصہ لیا،سب سے زیادہ انگریزوں کے فوجی وزیرستان میں مارے گئے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی لوگوں نے1965میں فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی،قبائلی عوام نے آزادی کی جنگ پوری طاقت سے لڑی، انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ پارلیمنٹ میں قبائلی عوام کی آوازبنا،واحدسیاستدان تھاجووزیرستان میں فوج بھیجنے کیخلاف تھا،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کواپنی روایات کے برعکس گھربارچھوڑنے پڑے،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قبائلی عوام کے نقصان سے آگاہ ہوں،عدل وانصاف کی ریاست کاسب سے بڑااصول تھا،قبائلی عوام کومکمل انصاف دلاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے قبائلی علاقے پرامن علاقے تھا،یہاں شایدہی کہیں جرم ہوتاتھا،قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم تھاجہاں فوری انصاف ملتاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں