93

وزیراعظم کا قبائلی علاقوں میں ہر سال 100 ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے ہر سال 100 ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں ہسپتال، کالجز، یونیورسٹیز اور سڑکیں بنانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد عدل و انصاف تھی، قبائلی علاقوں کی محرومیوں کو دور کرتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور تمام سہولیات مہیا کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سپن کئی رغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 70 سال میں قبائلی علاقوں میں اتنا پیسہ خرچ نہیں کیا گیا جتنا ہم کریں گے۔یہاں تعلیم سب سے کم ہے اور بیروزگاری سب سے زیادہ ہے جس کے باعث لوگ روزگار کمانے کیلئے دیگر شہروں اور بیرون ممالک کا رخ کرتے ہیں لیکن ہم صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی دیں گے۔ میں آپ کے سامنے ایک ایسے پاکستانی کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں جو نظریاتی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو بہت پیچھے چھوڑا گیا ہے کیونکہ کسی کو ان علاقوں کی سمجھ تھی اور نہ ہی کسی نے انہیں سمجھنے کی کوشش کی جس کے باعث یہ علاقہ بہت پیچھے رہ گیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے تمام کمزور علاقوں کو طاقتور نہ کرے،نیا پاکستان کیا ہے؟ نیا پاکستان وہ ہے جو 1947ءمیں اسے بننا چاہئے تھا، قائداعظم اور علامہ اقبال نے جس کا خواب دیکھا تھا اور وہ خواب دراصل مدینہ کی ریاست تھی جو نبی کریمﷺ نے بنائی تھی اور اسی کے اصولوں پر پاکستان کو بھی بننا چاہئے تھا جس کا سب سے بڑا اصول عدل و انصاف تھا جبکہ اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ میری زمین پر انصاف قائم کرو۔

نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر مدینہ کی ریاست قائم کی تھی جو دنیا کی پہلی فلاحی ریاست میں جس میں کمزور طبقے کو اٹھایا گیا، زکوة کے ذریعے امیروں سے پیسہ اکٹھا کر کے کمزوروں پر خرچ کیا گیا، پنشن کے ذریعے پہلی مرتبہ بزرگوں کا خیال رکھا گیا، اور کوئی ریاست جب اپنے کمزور طبقے کو اٹھاتی ہے، عدل و انصاف فراہم کرتی ہے تو اسے کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب مدینہ کی ریاست قائم کی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس وقت کی 2 سپر پاورز بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئیں، ہم نے نیا پاکستان انہی اصولوں پر کھڑا کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں سرمایہ کاری شروع ہو گئی تو کسی کو روزگار کیلئے باہر نہیں جانا پڑے گا، لوگ صرف روزگار کمانے کی خاطر سالوں تک بیوی اور بچوں سے دور رہتے ہیں لیکن جب یہاں پیسہ خرچ کیا جائے گا تو ایسا نہیں ہو گا۔ ہم ہر سال 100ارب روپے خرچ کریں گے جن کے ذریعے انفراسٹرکچر کھڑا کیا جائے گا اور ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ پیچھے رہ جانے والے لوگ بھی آگے آ سکیں گے، یہ ہمارا نظریہ ہے جو صرف قبائلی علاقوں کیلئے نہیں بلکہ بلوچستان سمیت، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سمیت ان تمام علاقوں کیلئے ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ گزشتہ 70 سالوں میں تو بس یہی ہوا ہے کہ امیر مزید امیر ہو گیا اور غریب اور بھی غریب ہو گیا لیکن ہم نے یہ تبدیل کرنا ہے اور انشاءاللہ میں یہ ثابت کر کے دکھاﺅں گا کہ تبدیلی بہت تیزی سے آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی لوگوں کیلئے نقل مکانی سب سے تکلیف دہ چیز تھی اور جو لوگ ان کی روایات کو نہیں جانتے وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ کتنی بڑی قربانی دی گئی ہم بہت سے کام کر رہے ہیں جن کا اعلان ابھی اس لئے نہیں کیا جا رہا ہے کہ کہیں آپ لوگوں میں ہی انتشار نہ پھیل جائے کیونکہ آپ کی دشمنیاں عام لوگوں جیسی نہیں ہوتیں بلکہ 100 سال تک چلتی ہیں۔ ہم نے تمام قبائلی علاقوں اور وزیرستان میں صحت انصاف کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر خاندان 7 لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کا مفت علاج کروا سکے گا۔ یہاں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور سرجن تعینات کئے جائیں گے اور نوجوانوں کے روزگار کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں قرض دیا جائے گا تاکہ وہ اپنے کاروبار چلا سکیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران یہاں بہت سے گھر تباہ ہوئے جن کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور پوری فہرست تیار کی جا رہی ہے تاکہ اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے آپ کو فنڈز دئیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ وزیرستان میں 100 کلومیٹر کی سڑکیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تعلیم کے شعبے میں 2 ڈگری کالج تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں سے ایک لڑکوں اور ایک لڑکیوں کیلئے ہو گا، سپورٹس کمپلیکس بھی تعمیر کر رہے ہیں کیونکہ یہاں کے نوجوان کھیلوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، بجلی کی بلا تعطل اور آسان فراہمی کیلئے ناصرف گرڈ سٹیشن کو اپ گریڈ کر رہے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر سولر بجلی کا نظام بھی لگا رہے ہیں کیونکہ اس سے بننے والی بجلی سب سے زیادہ سستی ہوتی ہے۔

پانی کا مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے اور ابھی جو بارشیں ہوئی ہیں اگر چھوٹے چھوٹے ڈیمز ہوتے تو بہت فائدہ ہوتا، دورہ ایران کے دوران دیکھا کہ انہوں نے بھی پانی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنا رکھے ہیں اور ہم بھی ایسا ہی کریں گے، میں یہ تمام اعلان ووٹ لینے کیلئے نہیں کر رہا بلکہ میرا ایمان ہے کہ کچھ علاقوں کے طاقتور اور کچھ کے کمزور ہونے کیساتھ پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، بس ہمیں تھوڑا سا صبر سے کام لینا ہو گا کیونکہ حکمرانوں نے صرف 10 سال میں 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ اس وقت ملک میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے جس میں سے تقریباً دو ہزار ارب قرضوں پر سود اور قسطوں کی ادائیگی کیلئے خرچ ہو جاتا ہے اور ملک چلانے کیلئے پیسے ہی نہیں بچتے۔ مگر آپ فکر مت کریں کیونکہ آپ کا ملک بہت امیر ہے اور ہم اسے اوپر اٹھائیں گے، پیسہ آ رہا ہے اور بھی آئے گا لیکن تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا، آپ کو آنے والے دنوں میں تبدیلی نظر آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں